کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 632
[النساء:۱۱][ ’’ وصیت کے بعد ‘‘ ] نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿کُتِبَ عَلَیْکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَکَ خَیْرًا الْوَصِیَّۃُ لِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ﴾ [البقرۃ: ۱۸۰] [ ’’تم پر فرض کر دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرنے لگے اور مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے پرہیز گاروں پر یہ حق اور ثابت ہے۔‘‘]ہاں وارث کے حق میں وصیت نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (( لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ)) [1] [’’وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔‘‘] پھر ثلث ( سے زائد کی بھی وصیت درست اور جائز نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (( وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ)) [2] [ اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے (یعنی ورثاء کے حصے مقرر کر دیے ہیں )پس اب کسی وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں البتہ ایسے رشتہ داروں کے لیے وصیت کی جا سکتی ہے جو وارث نہ ہوں یا راہِ خیر میں خرچ کرنے کے لیے کی جا سکتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ حد ثلث (ایک تہائی مال ہے اس سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جا سکتی۔]اگر فوت ہو نے والے وصیت نہیں کر گئے تو وارث صلاح مشورہ کر کے ان کے اس فریضہ کو ادا کریں ورنہ ترک فرض والا بوجھ ان کے ذمہ رہے گا الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دیں ۔ ۳:.....آپ کی والدہ محترمہ کے وارث اگر چار بیٹے اور ایک بیٹی ہی ہیں اور ان کا کوئی وارث نہیں مثلاً والد یا والدہ تو آپ کی والدہ محترمہ کے ترکہ کے کل نو حصے کیے جائیں 1/9حصہ ان کی بیٹی کو اور2/9 ان کے ہر بیٹے کو دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿یُوْصِیْکُمُ ا للّٰه فِیْٓ أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ﴾ [النساء:۱۱][’’اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘ ]واللہ اعلم س: ایک عورت جس کی اولاد ایک بیٹی ہے جائیداد کی تقسیم کے وقت اس عورت نے اپنی بہن کی اولاد جو کہ چار بیٹیوں پر مشتمل ہے ۔ اُن کو بھی اس جائیداد میں برابر کا حصہ دار بنایا اور ان کے نام اپنی جائیداد ہبہ کی۔ اس واقعہ کو سات سال گزر چکے ہیں ۔ اب وہ عورت اپنی بہن کی بیٹیوں سے ہبہ کی ہوئی جائیداد واپس لینا چاہتی ہے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کیا وہ عورت یہ ہبہ واپس لے سکتی ہے یا نہیں ؟ یاد رہے کہ اس ہبہ کرنے والی عورت کے تایا کے دو لڑکے بھی حیات ہیں اور اس کی پھوپھی مع اولاد زندہ ہے۔ (عبدالقادر ، بلتستان) [1] بخاری؍کتاب الوصایا؍لاوصیۃلوارث باب نمبر۶۔ سنن ترمذی۔ ابن ماجہ ؍کتاب الوصایا ؍باب لاوصیۃ لوارث [2] صحیح بخاری؍کتاب الفرائض؍باب میراث البنات