کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 631
کتاب و سنت کے مطابق تقسیم کی جائے۔ نمبر ۲:.....جتنی زمین بڑے بیٹے کو ہبہ کی گئی ہے اتنی زمین چھوٹے بیٹے کو بھی دے دی جائے تاکہ ﴿اِعْدِلُوْا بَیْنَ اَوْلَادِکُمْ﴾ [ ’’اپنی اولاد میں انصاف کرو۔‘‘][1] پر عمل ہو جائے اور جو باقی بچے وہ ان دونوں بیٹوں اور دیگر وارثوں کے درمیان کتاب و سنت کے مطابق تقسیم کر دی جائے۔ واللہ اعلم ۲۳؍۴؍۱۴۲۴ھ س: ہمارے والدِ محترم نے ایک رہائشی پلاٹ جو کہ ان کی کل جائیداد تھی اپنی زندگی میں ہماری والدہ کے نام ہبہ کر دیا تھا ، والد صاحب کی وفات کے بعد ہم چار بھائیوں نے اپنی کمائی سے اس پلاٹ پر مکان تعمیر کیا ۔ ہم چھ (۶)بہن بھائی تھے چار بھائی اور دو بہنیں ہماری بڑی بہن و الدہ محترمہ کی زندگی میں ہی وفات پا گئی تھی۔ اب ہماری والدہ محترمہ بھی وفات پا گئی ہیں ۔ لہٰذا ان کی متروکہ جائیداد کے بارے میں معلومات درکار ہیں کہ: ۱:.....کیا صرف خالی پلاٹ جو کہ والد کی طرف سے والدہ صاحبہ کو ملا تھا وہی ترکہ شمار ہو گا یا مکمل تعمیر شدہ مکان جب کہ تعمیر میں صرف ہم بھائیوں نے شرکت کی ہے؟ ۲:.....ہماری وہ بہن جو کہ والدہ صاحبہ سے پہلے فوت ہو چکی ہیں کیا وہ بھی وارث ہوں گی یعنی ان کا حصہ ان کی اولاد کو ملے گا یا نہیں ؟ ۳:.....ورثاء میں ترکہ کی تقسیم کا ر کا طریقہ کیا ہو گا؟ (ابو عبداللہ ، کویت) ج: اگر سوال صحیح اور نفس الأمر کے مطابق ہے اور تمام بہن بھائی والد محترم کے خالی پلاٹ ، جو ان کی کل جائیداد تھی ، والدہ محترمہ کے نام ہبہ کرنے پر راضی اور خوش ہیں تو : ۱:.....صرف خالی پلاٹ ہی والدہ محترمہ کا ترکہ شمار ہو گاکیونکہ ان کی ملکیت صرف خالی پلاٹ ہے اس پر جو عمارت کھڑی کی گئی ہے وہ ان کی ملکیت ہی نہیں ۔ وہ تو صرف اور صرف چار بھائیوں کی مشترکہ ملکیت ہے جن کا مال اس پر صرف ہوا ہے۔ ہاں اگر بھائیوں نے بھی عمارت اپنی والدہ محترمہ کو ہبہ کر دی ہوئی ہے تو پھر مکمل تعمیر شدہ مکان پلاٹ سمیت والدہ محترمہ کا ترکہ شمار ہو گا۔ ۲:.....نہیں ! والدہ محترمہ سے پہلے فوت ہونے والی آپ کی بہن وارث نہیں ہو گی۔ ہاں ان کی اولاد کے حق میں آپ کی والدہ صاحبہ وصیت کر گئی ہیں تو وصیت نافذ ہو گی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ [1] بخاری؍کتاب الھبۃ و فضلھا والتحریض علیھا باب الاشہاد فی الھبۃ