کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 630
مرحوم کی بیوی نے کہا یہ حصہ ہبہ شدہ ہے اور ایک گواہ بھی پیش کیا وہ بھی بڑے بیٹے کاماموں ہے ۔ آیا ایک گواہ کی بنا پر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اور گواہ بھی قابل اعتبار نہیں کیونکہ وہ اس کا ماموں ہے ؟ مزید اس کے علاوہ ایک گواہ پیش کیا لیکن وہ زمین کا رقبہ کتنا ہبہ کیا ہے بتلانے سے قاصر ہے۔ (محمود الحسن سلیم) ج: ہاں ! درست ہے قابض غاصب کے ورثاء کے ذمہ ہے کہ وہ سترہ (۱۷)سال کے عرصہ کے ٹھیکہ یا بٹائی جو رائج الوقت ہوں کا حساب لگا کر زمین کے مالک کو واپس کریں ورنہ ان کے مورث پر بوجھ رہے گا۔ الا یہ کہ .....دلیل یہی ہے کہ زمین اس کی ملک نہیں تھی وہ خواہ ناجائز قابض تھا ۔ پھر حدیث (( اَلْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ)) [1][’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’آمدن کا وہی مستحق ہے جو ضامن ہو ۔‘‘ یعنی فروخت شدہ چیز کو قبضہ میں لینے کے بعد اسے حاصل ہونے والے منافع اور فوائد خریدار کے لیے ہیں اس ضمانت کے بدلے میں جو اس پر لازم ہے ۔ فروخت شدہ چیز کے تلف ہونے کی صورت میں اور اسی سے یہ قول ماخوذ ہے جس پر تاوان ہے اس کا فائدہ و مفاد بھی اسی کے لیے ہے۔ اس طرح کہ وہ ایک چیز خریدتا ہے اور ایک مدت تک اس سے استفادہ کرتا ہے اس کے بعد ا سے اس چیز کے قدیم عیب کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اس صورت میں خریدار کے لیے گنجائش ہے کہ وہ فروخت شدہ چیز کو بعینہٖ واپس کر کے اپنی قیمت وصول کر لے اس دوران خریدار نے اس چیز سے جتنا مفاد حاصل کیا ہے یہ اسی کا حق ہے کیونکہ اگر فروخت شدہ چیز اس سے ضائع ہو جاتی تو اس کا ذمہ دار بھی وہی ہوتا اور فروخت کرنے والے پر کوئی چیز لازم نہ آتی اور صاحب سبل السلام نے کہا: جب کسی آدمی نے زمین خریدی اور اس کو استعمال بھی کیا یا جانور خریدا اور اس پر سواری کی یا غلام خریدا اس سے خدمت لی ، پھر اس خریدی ہوئی چیز میں نقص و عیب پایا تو خریدی ہوئی چیز واپس کرنے کی گنجائش ہے اور جتنا فائدہ خریدار نے حاصل کیا اس کے بدلے میں اس پر کوئی چیز نہیں اس لیے کہ اگر یہ فسخ عقد کی مدت کے درمیان تلف و ضائع ہو جاتی تو اس کی ذمہ داری خریدار پر ہوتی تو پھر اس کی آمدن کا بھی وہی حق دار ہے۔ ‘‘]کا تقاضا بھی یہی ہے۔ ۲:.....صحیح بخاری کی نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ [2] والی حدیث کی رو سے باپ کا بڑے بیٹے کو زمین کا کچھ حصہ ہبہ کرنا اور چھوٹے بیٹے کوکچھ بھی ہبہ نہ کرنا درست نہیں ہے ۔ اب کہ اصلاح کی دو صورتیں ہیں : نمبر۱:.....بڑے بیٹے کو ہبہ کی ہوئی زمین واپس لے کر کل زمین دونوں بیٹوں اور دیگر وارثوں کے درمیان [1] ابو داؤد؍کتاب البیوع؍باب فیمن اشتری عبدا فاستعملہ ثم وجدبہ عیبا۔ نسائی؍کتاب البیوع؍باب الخراج بالضمان۔ ترمذی؍ابواب البیوع؍باب ما جاء فیمن یشتری العبد و یستغلہ ثم یجد بہ عیبا [2] بخاری؍کتاب الھبۃ وفضلھا والتحریض علیہا؍باب الھبۃ للولد۔