کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 63
اختیار کر لیتا ہے، اور یہی کھانا اگر بلی کھاتی ہے تو بلی کا جسم اختیار کرلیتا ہے، اسی طرح اگر چوہا یا کتا کھاتا ہے تو وہ کھانا چوہے اور کتے کے جسم کا حصہ بن جاتا ہے، حالانکہ وہ ایک کھانا ہے….....اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے، وہ ہر چیز کو جس شکل و صورت میں چاہے بنا دیتی ہے۔ ماں خواہ انسان کی ہو یا حیوان کی ، اولاد کے بارے میں اس کی شفقت اور مامتا پر ذرا غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ یہ ماں اپنی اولاد کی خاطر کتنی قربانی دیتی ہے، حتی کہ ایک مرغی جو بچے کی آواز سے ڈر جاتی ہے، کوئی اس کے چوزے کو ہاتھ لگا کر تو دیکھے، یہی مرغی اس پر جھپٹ پڑتی ہے۔ یہ اس ماں کی شفقت و مامتا کا تقاضا ہے اور اسی کے بل بوتے پر وہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی حفاظت کرتی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ رحمن و رحیم ذات کی عنایت کا مظہر ہے۔ ستاروں جیسی عظیم و ضخیم مخلوق پر ذرا غور کرو، یہ ہماری زمین سے لاکھوں کروڑوں گنا بڑے ہیں ۔ دوسری طرف اس لطیف و باریک مخلوق کو دیکھو جو پانی کے ایک قطرے میں لاکھوں کی شکل میں پائی جاتی ہے۔ اب سوچو یہ کیسی کیسی مخلوق ایک ہی نظام اور ایک ہی محکم اور مضبوط نظم کے تحت کس طرح چل رہی ہے….....جو اب خود بخود مل جائے گا کہ یہ ساری کائنات مضبوط و نگران اور سب پر غالب ذات کی صناعی و کاریگری کا شاہکار ہے۔ اَلْوَاحِدُ الْاَحَدُ: ایک اور یکتا: کائنات میں موجود ہر چیز زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ وہ ایک اور یکتا ذات کی کاریگری کا نمونہ ہے۔ ایک مثال کو سامنے رکھ کر غور کرلیں کہ غذا کے ہضم کا دارومدار معدے اور انتڑیوں پر ہے۔ طبیبوں اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انتڑیوں کی کارکردگی دوران خون سے منسلک ہے، اور خون کی حرکت سانس اور ہوا پر موقوف ہے اور سانس کے لیے صاف ستھری ہوا کا تعلق نباتات ( سبزہ زاروں اور درختوں ) سے ہے، اور نباتات کی نشوونما سورج کی وجہ سے ہے، اور سورج اپنے گردو پیش موجود ستاروں اور سیاروں کے بل بوتے پر کام کرتا ہے۔ تو اس مثال سے معلوم ہوا کہ ہر چیز اپنے وجود اور کارکردگی میں دوسروں کی محتاج ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ معدہ کا تعلق آسمانی ستاروں سے بھی ہے۔ اس طرح ہر چیز گواہی دے رہی ہے کہ یہ ایک رب کی کاریگری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: