کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 628
۲:…مزید یہ بھی واضح کریں اگرچہ والد نے اپنی کل ملکیتی زمین کے چار حصے اپنی زندگی میں صرف بیٹوں کے نام انتقال کرا دیے تھے مگر کیا اب بیٹوں پر فرض و لازم ہے کہ اس زمین سے بھی اپنی بہنوں کو شرعی حصہ دیں ؟اور نہ دینے کی صورت میں کیا وہ مسلسل گنہگار ہیں ؟ ۳:…مزید یہ بھی واضح کریں کہ بیٹیوں کے کل شرعی حصہ کی زمین کی پیداوار جو والد کی وفات سے لے کراب تک صرف بیٹے استعمال کرتے رہے ہیں ، بیٹیاں اس گزشتہ پیداوار کی کس قدر حق دار ہیں ؟ ج: اس متوفی شخص کا یہ تصرف ازروئے کتاب و سنت درست نہیں ، اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں جگہ جگہ عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور اس تصرف میں عدل و انصاف نہیں ہوا کیونکہ بیٹیوں کو بالکل محروم رکھا گیا ہے جبکہ انسان اپنی زندگی میں کوئی چیز اولاد کو دے تو بیٹے بیٹیوں کو برابر دینے کا حکم ہے جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مذکور ہے۔ [ ’’نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام دیا ہے بطورِ ہبہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا ایسا ہی غلام اپنے دوسرے لڑکوں کو بھی دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ پھر (ان سے بھی) واپس لے لے ۔‘‘ ] محکمۂ مال نے بھی اس تصرف میں شریعت کتاب و سنت پر عمل نہیں کیا ، ان پر لازم تھا کہ چار بیٹوں والے حصص اور متوفی والا حصہ پانچوں حصص کو متوفی کے وارثان بیوہ ، چار بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں کتاب و سنت کے مطابق تقسیم کرتے اور ہر ایک کے حصہ کو اس کے نام انتقال کرتے ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا أَوْ اِثْمًا فَأَصْلَحَ بَیْنَھُمْ فَلاَ اِثْمَ عَلَیْہِ إِنَّ ا للّٰه غَفُوْرٌ رَّ حِیْمٌ o﴾ [البقرۃ :۱۸۲] [’’اگر کسی کو وصیت کرنے والے کی طرف سے نا دانستہ یا دانستہ طرفداری کا خطرہ ہو اور وہ وارثوں میں صلح کرادے تو اس پر گناہ نہیں بے شک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘ ] متوفی کی کل متروکہ جائیداد خواہ وہ زمین ہے، خواہ مکان، خواہ دوکان، خواہ کوئی اور چیز روپیہ یا سامان کا 13/104حصہ اور اس کی آمدنی بیوہ کا حق ہے اگر اس کو مل چکا ہے تو فبھا ورنہ اب دے دیا جائے۔ اور پانچ بیٹیوں میں سے ہر بیٹی متوفی کے ترکہ کے7/ 104 حصہ کی حق دار ہے۔ لہٰذا یہ حصہ اور اس کی آمدنی اس کے حوالے کر دیے جائیں اور ہر بیٹا 14/104کا حق دار ہے۔ ا:…تو شریعت اسلامیہ کتاب وسنت کے مطابق متوفی کی پانچوں بیٹیاں متوفی کی زمین بلکہ متوفی کے ترکہ