کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 627
سوال یہ ہے کہ کیا فریق ثانی فتح محمد کی اراضی کی تقسیم شریعت اسلامیہ کے مطابق ہوئی ہے؟ (محمد ہاشم یزمانی ، جامعہ سلفیہ فیصل آباد) ج: فریق اوّل اسماعیل کا اپنی اراضی کو اپنی زندگی میں اپنی دو لڑکیوں کے درمیان بحصہ برابر انتقال کروانا شرعاً درست نہیں کیونکہ ایساکرنے سے اسماعیل کے دیگر وارث محروم ہو گئے ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ وَلِلنِّسَآئِ نَصِیْبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اَوْ کَثُرَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاo﴾ [النساء:۷][’’ماں باپ اور اقارب کے ترکہ میں مردوں کا حصہ بھی ہے اور عورتوں کا بھی خواہ وہ مال کم ہو یا زیادہ حصہ مقرر کیا ہوا ہے۔‘‘ ] فریق ثانی فتح محمد کی اراضی کا ( اس کی لڑکی کو اور باقی(اس کی بھتیجیوں کو دینا بھی شرعاً درست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : (( أَلْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَھْلِھَا فَمَا بَقِیَ فَھُوَ لِاَوْلیٰ رَجُلٍ ذَکَرٍ)) [1] [’’میراث مقررہ حصہ داروں کو دو اور جو باقی بچے تو رشتہ میں میت کے جو مرد زیادہ قریب ہو اسے دے دو۔‘‘ ] ۲۱؍۳؍۱۴۲۴ھ س: ایک متوفی شخص نے اپنی زندگی میں اپنی کل ملکیتی زرعی زمین کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے ایک حصہ اپنے پاس رکھتے ہوئے بقیہ چار حصے اپنے چار بیٹوں کے نام انتقال کروا دیے اور بیٹیوں کو بالکل محروم رکھا۔ مذکورہ شخص اپنے ورثاء میں چار بیٹے ، پانچ بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑ کر تقریباً بیس سال قبل فوت ہو گیا۔ کل زرعی زمین کا پانچواں حصہ جو متوفی نے اپنے پاس رکھا تھا متوفی کی وفات کے بعد محکمہ مال نے شرعی وارثوں کے حق میں شرعی حصص کے مطابق انتقال کردیا۔ متوفی کی وفات سے لے کر اب تک کل زرعی زمین پر صرف چاروں بیٹے قابض ہیں البتہ وہ کل زرعی زمین کے ساڑھے بارھویں حصہ کی پیداوار اپنی والدہ یعنی متوفی کی بیوہ کو دے دیتے ہیں ۔ مگر اپنی بہنوں یعنی متوفی کی بیٹیوں کو آج تک زمین یا پیداوار سے کلی طور پر محروم رکھا ہوا ہے۔ ۱:…درج بالا حالات میں واضح کریں کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق متوفی کی بیٹیاں آیا کہ محض محکمہ مال کی انتقال شدہ زمین کی حق دار ہیں یا کل زرعی زمین میں سے شرعی حصہ کی حق دار ہیں جبکہ بیٹیاں اپنا پورا حق وصول کرنا چاہتی ہوں ؟ [1] بخاری؍کتاب الفرائض؍باب ابنی عم احدھا اخ لام۔ مسلم؍کتاب الفرائض۔ ؍باب الحقوا الفرائض باھلھا ترمذی؍ابواب الفرائض؍باب میراث العصبۃ