کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 622
کتاب المیراث .....وراثت کے مسائل س: کیا والد کے زندہ ہوتے ہوئے بیٹا جائیداد اپنے نام لگوا سکتا ہے جبکہ یہ سارا کچھ بیٹے ہی کی کمائی سے ہے۔ (مذکورہ سوال میں بیٹا اپنے والد کے ساتھ ہی ہے) اور جب دونوں علیحدہ علیحدہ ہوں تو پھر کیا حکم ہے؟ (محمد ہاشم یزمانی) ج: بیٹا اپنی کمائی اپنے نام لگوا سکتا ہے اپنے والد کی کمائی اپنے نام نہیں لگوا سکتا۔ ۷؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: کیا آدمی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کر سکتا ہے یا نہیں نیز جائیداد کی تقسیم میں بیوی کا حصہ بھی نکالا جاتا ہے تو بیوی کے مر جانے کے بعد اس کے حصہ کا وارث کون ہو گا ؟ اس کی ساری اولاد اس کے حصے میں حصہ دار ہو گی یا کہ وہ اپنا حصہ کسی اور کو دے سکتی ہے؟(عبدالستار ولد عبدالرحمان ، نارووال) ج: ہاں ! تقسیم کر سکتا ہے البتہ زندگی میں تقسیم کرنے کی صورت میں لڑکی کو لڑکے کے برابردے گا۔ للذکر مثل حظ الأنثیین [النسآء: ۱۱]’’ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔‘‘والا قاعدہ موت کے بعد ترکہ کی تقسیم میں جاری ہو تاہے ۔ بیوی کو خاوند کی جائیداد متروکہ سے جو حصہ ملا بیوی کے فوت ہو جانے کے بعد وہ بیوی کے وارثوں میں تقسیم ہو گا اس حساب سے جو کتاب و سنت میں مذکور ہے۔ ۴؍۱۲؍۱۴۲۳ھ س: حکومت کے ظالمانہ ٹیکس سے بچنے کے لیے کیا والد اپنی زمین اپنی اولاد کے نام لگوا سکتا ہے جبکہ اولاد میں سے کوئی اعتراض نہ کرے سب کو برابر زمین دی جائے۔ (محمد شکیل ، فورٹ عباس) ج: کسی کا ٹیکس سے بچنے کی خاطر یا ویسے ہی کسی اور غرض کی خاطر زمین اپنی اولاد کے نام لگوانا اگر کتاب و سنت کے منافی و خلاف ہے تو یہ نام لگوانا ناجائز ہے اور اگر کتاب و سنت کے موافق ہے منافی و خلاف نہیں تو یہ نام لگوانا درست اور جائز ہے۔ اولاد میں سے کوئی اعتراض کرے یا نہ کرے ۔ کتاب و سنت کی موافقت و مخالفت کا اعتبار ہے اور جائز و ناجائز میں بھی یہی دونوں چیزیں معیار ہیں ۔ ۱۲؍۱۰؍۱۴۲۱ھ س: عرض یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی اپنے ہوش و حواس میں اپنی جائیداد کی تقسیم کر دی ، بچے جو کہ ابھی چھوٹے ہیں بڑی بیٹی پانچ سال کی اور چھوٹا بیٹا عبدالباسط ،اس سے چھوٹا عبدالوہاب ، جو میری طاقت میں تھا