کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 62
باہر نکالنے کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہ کر سکتے۔ جوں ہی نیند کا غلبہ ہوتا ہوا کی آمدورفت رک جاتی اور موت واقع ہو جاتی ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی محافظ ذات ہی ہے جو بادلوں کو تمہارے سر تک لے آت ہے، لیکن انہیں سیلاب کی طرح یک بارگی انڈیل نہیں دیتی۔ اس طرح تو نباتات اور تمام جاندار ختم ہو جاتے۔ یہ اللہ کی محافظ و نگران ذات کا کمال ہے کہ اس نے زمین کو ہوا کے ایسے غلاف میں لپیٹ رکھا ہے جو سورج اور ستاروں سے آنے والی خطرناک شعاؤں کو روکے رکھتی ہے، ورنہ تو ہر جاندار ہی کیا زندگی کے آثار تک ختم ہو جاتے۔ دن رات روزانہ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں شہاب اور تارے ٹوٹ ٹوٹ کر زمین پر برستے رہتے ہیں ۔ یہ اسی ذات محافظ کا کمال ہے کہ اس نے ہوا کا ایسا غلاف بنایا ہے جو زمین کی حفاظت میں لگا رہتا ہے۔ اور اسی ذات نے پہاڑوں کے ذریعے زمین کو ہمارے قدموں تلے جما دیا ہے، ورنہ تو یہ جھولتی رہتی ۔ کیا ہم سب کو ان احسانات پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا شکر گزار نہیں رہنا چاہئے، جس نے اندر سے ،باہر سے ، اوپرسے، نیچے سے ہماری حفاظت فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے کتنی سچی بات کہی ہے: ﴿لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ أَمْرِ ا للّٰه ط﴾ [الرعد:۱۱] ’’ہر شخص کے آگے اورپیچھے اس (اللہ تعالیٰ) کے مقرر کیے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں ، جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ۔‘‘ جس آدمی کو یقین حاصل ہو جائے کہ اللہ خود اس کی حفاظت کر رہا ہے، چنانچہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اس کی تقدیر میں لکھ دیا ہے اس سے زیادہ زمین و آسمان کی کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی، ایسا آدمی تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر دل کی گہرائی سے ایمان لے آئے گا : ﴿قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَآ إِلاَّ مَا کَتَبَ ا للّٰه لَنَا ﴾ [ التوبہ:۵۱] ’’ ان سے کہو: ہمیں ہرگز ( کوئی برائی یا بھلائی)نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے۔‘‘ دیگر صفات ربانی: ایک کھانے کی مثال سامنے رکھ کر ذرا غور کرو، اسے پورا خاندان کھاتا ہے، وہ مرد کے جسم میں جا کر مرد کی شکل میں ڈھل جاتا ہے اور عورت کے جسم میں جا کر عورت کا جسم بن جاتا ہے اور بچے کے جسم میں جا کر بچے کی شکل