کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 618
بھی کر دیتی ہو شاید اِکا دُکا آدمیوں کو کچھ مل جاتا ہو، فی الحقیقت اسے فراڈ اور چالبازی سے رقمیں جمع کرنے کے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ایک کاغذی ادارے کے ممبر بننے کے لیے۴۵۰۰روپے دینے ہیں اور ۹ممبرز بنا کر کل رقم ۴۵۰۰ روپے دیں گے اور اس کے عوض اتنی رقم میں سے ۵۰ ڈالر یعنی ۳۰۰۰روپے ممبر بنانے والے کو ملتے ہیں باقی رقم کمپنی کے بانی عمران خان اور شارجی صاحب ہڑپ کر لیتے ہیں اس طرح لوٹ کھسوٹ کا ایک جال ہے جو بناجاتا ہے ایک آدمی دھوکہ سے ایک شخص کی رقم ہتھیا کر دوسرے کو دینے میں استعمال ہوتا ہے یہ کام عرصہ سے مختلف کاغذی کمپنیاں کر رہی ہیں لیکن ان نوسر بازوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ۔یہ اس طرح سے چند ماہ میں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر غائب ہو جاتے ہیں ۔ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا اور اس لوٹ کھسوٹ کا حساب نہیں لیا گیا۔حکومت اپنے سیاسی مخالفین یا مجاہدین کو گرفتار کرنے اور انہیں ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کرنے میں لگی ہوئی ہے۔تنخواہ پاکستان سے اور اضافی الاؤنسز امریکہ سے ملتے ہیں اور کام امریکہ کا کیا جاتا ہے۔مسلمانوں کو لوٹنے والوں کا احتساب کرنے کے لیے کوئی اہتمام نہیں ہے۔ والسلام مولانا عبدالمالک مدیر شعبہ استفسار ات ادارہ معارف اسلامی منصورہ لاہور وجامعہ مرکز علوم اسلامیہ منصورہ بزناس یادین ودنیا کا ناس (مولانا مفتی ڈاکٹر عبدالواحد جامعہ مدینہ لاہور) (انٹرنیٹ پر کچھ پیکج فروخت کر کے ممبر بنانے والی بزناس کمپنی کا طریقہ کار بھی’’گولڈن کی‘‘سے بنیادی طور پر ملتا جلتا ہے۔اس میں بھی ایک دفعہ پہلے ممبر کو کچھ پیکج فروخت کر کے آگے مزید ممبر در ممبر بنانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔’’گولڈن کی‘‘کی طرح اس میں بھی زیادہ ممبر بننے پر پہلا ممبر ترقی کرتا ہے اور اسے کمیشن زیادہ ملتا ہے۔حالانکہ پہلے دو ممبرز کے سوا اس میں بھی اگلے ممبران پر ممبر نے عموماً کوئی محنت نہیں کی ہوتی،اور نہ ہی انہیں کوئی مال دیا ہوتا ہے ،لیکن وہ اگلے ممبران کے نفع میں شریک ہوتا ہے۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ’’گولڈن کی‘‘میں پہلے دو ممبر ان سے ہی کمیشن