کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 617
میں آتا ہے: ((نہی رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عن بیع الحصاۃ وبیع الغرر)) [1] ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری(پانسے مارنے)کی بیع سے اور دھوکے کی خریدوفروخت سے منع فرمایا۔‘‘ یعنی جس بیع میں سود ا بظاہر بہت اعلیٰ دکھایا جا رہا ہو لیکن حقیقت میں وہ ایسا نہ ہو یا طریقہ فروخت ایسا بتایا جا رہا ہو کہ اس سے قیمت بہت کم پڑنے کا دعویٰ ہو لیکن عملاً کئی سو گنا سے بھی زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہو تو یہ صاف بیع الغرر ہے۔پھر مسلمانوں خصوصاً اس کمپنی میں شامل دینداروں کو تو ایسی ٹوتھ پیسٹیں وغیرہ خریدنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔انہیں تو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق عام مسواک کو ہی کافی سمجھنا چاہیے جسے طبی طور پر سب ڈاکٹروں نے ٹوتھ پیسٹ سے بہتر چیز قرار دیا ہے چہ جائیکہ وہ اتنی مہنگی ٹوتھ پیسٹیں خرید کر ان کمپنیوں کے ہاتھوں لٹتے پھریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیتے پھریں ۔ العیاذ باللّٰه ۔ جماعت اسلامی کے شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک کابزناس بارے استفسار کا جواب محترمی ومکرمی جناب عاشق علی خان صاحب قیم جماعت اسلامی ضلع ابن قاسم کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! فیکس کے ذریعے جناب کا استفسار ملا ،جواب درج ذیل ہے: BisnAsکے نام سے ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنی یا نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی کے کاروبار کے بارے میں آپ نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب یہ کہ لوگوں سے ۴۵۰۰روپے فیس لے کر انہیں ممبر بنانا اور پھر وہ ممبر ز بنانے پر ۵۰امریکی ڈالر کا چیک بطور کمیشن پیش کرنے اور پھر بنائے ہوئے ممبران کے بنائے جانے والے ممبر ان میں سے ہر ۹ممبرز کی تعداد پر ۵۰ ڈالر کا چیک پیش کیے جانے کا لالچ سب کاغذی کارروائی ہے۔ہر شخص کو لالچ دے کر ۴۵۰۰روپے وصول کیے جاتے ہیں ۔اس کے بعد وہ آدمی اپنے ادا کردہ۴۵۰۰روپے کے عوض ان لوگوں کو ممبر بنا کر حاصل کرتا ہے۔جن کو اس نے کچھ نہیں دیا ،وہ ان میں سے ہر ایک سے ۴۵۰۰روپے کاغذی کمپنی کو دلاتا ہے۔اس طرح کاغذی کمپنی لالچ کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو اپنے لیے کمائی پر لگا دیتی ہے اور جو کمائی حاصل کرتی ہے شاید ان میں سے چند آدمیوں کو کچھ ادا [1] مسلم ؍کتاب البیوع ؍باب بطلان بیع الحصاۃ والبیع الذی فیہ غرر