کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 612
۱۔دوائی اتنی اعلیٰ اور معیاری نہیں کہ صرف دوائی کے لیے کوئی شخص کسی ڈاکٹر یا طبیب کی تجویز کے بغیر اتنی بڑی رقم خرچ کرے بلکہ گاہک کا مقصد کمپنی کا ممبر بن کر نفع کمانا ہے۔ ۲۔نفع حاصل کرنے کے لیے کچھ رقم داؤ پر لگائی جاتی ہے اگر ممبر نے مزید گاہک فراہم کر لیا تو کمپنی یہ رقم مخصوص کمیشن کے ساتھ واپس کرے گی اور اگر گاہک فراہم نہ کر سکا تو داؤپر لگائی گئی رقم ڈوب جائے گی۔شریعت مطہرہ نے اسی کو سود اور جوا قرار دیا ہے۔ لہٰذا مذکورہ کاروبار سوداور جوئے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے اور اس مخصوص طریقہ کار میں شامل ہو کر نفع کمانا نہ تو کمپنی کے لیے جائز ہے نہ ہی کسی ممبر کے لیے۔اس لیے ہمارے سابقہ فتویٰ کا سہارا لے کر مذکورہ کمپنی کے ممبر بننے کی ترغیب دینے سے اجتنا ب کیا جائے ۔فقط واللّٰه تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ عبدالباری غفرلہ۔ دارالافتاء،جامعہ فاروقیہ کراچی (۱۴۲۳ھ۔۴۔۲۵) گولڈن کی انٹر نیشنل نے لوگوں کو لوٹنے کے لیے پر اسرار طریقہ اختیار کیا ہے (شیخ الحدیث مولانا محمود الحسن حفظہ اللہ جامعہ ستاریہ اہلحدیث کراچی) صورت مسؤلہ میں واضح ہو کہ دستیاب معلومات اور قرائن وشواہد کی روشنی میں درج بالا کاروبار کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کتاب وسنت کی رُو سے یہ کاروبار درج ذیل وجوہ کی بناء پر ناجائز اور حرام ہے: ۱۔یہ کہ یہ سودی لین دین ہی کی ایک شکل ہے جسے بعض اشیاء خصوصاً ایک دوائی نما سفوف بیچنے کے پردے میں چھپایا گیا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس دوائی میں ایسی کون سی خوبی اور خصوصیت ہے کہ اسے اتنے بڑے پیمانے پر سپلائی کرنے اور عوام میں مشتہر کرنے کے لیے عام کاروباری طریقہ سے ہٹ کر یہ پرُاسرار وپرپیچ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔لگتا ہے اس کے پیچھے اصل کاروبار کچھ اور ہے جس کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کے لیے کمیشن کی ترغیب دے کر لوگوں سے پیسہ بٹوراجارہا ہے۔یہ دراصل کمیشن نہیں ہے بلکہ ربوٰ (سود)ہے جو مختلف لوگوں کو ان کے فراہم کردہ سرمایہ کے تناسب سے ادا کیا جارہا ہے اور ((کل قرض جر منفعۃ فھو ربا)) [1] [1] یہ حدیث ضعیف ہے دیکھیے بلوغ المرام ؍کتاب البیوع ؍ابواب السلم والقرض والرھن