کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 611
گولڈن کی کا کاروبار سودا ور جوئے پر مشتمل ہے جامعہ فاروقیہ کراچی کا اعلان الجواب حامد امصلیا اصل جواب لکھنے سے قبل بطور تمہید کمپنی کا طریقہ کار لکھا جاتا ہے۔اس کے بعد شرعی حکم۔ کمپنی (گولڈن کی انٹرنیشنل)کا طریقہ کار یہ ہے کہ جب کوئی شخص کمپنی سے دوائی خریدتا ہے تو اسے کمپنی اپنا مستقل ممبر بناتی ہے اور اسے کمپنی کی اصطلاح میں ’’سپر وائزر ‘‘کہا جاتا ہے،جب سپروائزر پانچ ممبر کمپنی کو فراہم کرتا ہے تو وہ ’’مینجر ‘‘بن جاتا ہے۔مینجر جب چوبیس ممبر بناتا ہے تو اسے’’ڈائریکٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اب یہ ایک جماعت بن گئی، اگر مذکورہ جماعت اوردیگر ممبروں کے تعاون وکو شش سے بننے والوں کی تعداد دو سو تک پہنچ جاتی ہے تو مذکورہ جماعت کا ڈائریکٹر ’’ایگزیکٹو ڈائریکٹر‘‘بن جاتا ہے۔ کمپنی کی طرف سے ممبر مہیا کرنے پر سپروائزر کو دس ہزار روپے کا پندرہ فیصد یعنی پندرہ سوروپے ،مینجر کو ۲۵فیصد یعنی دو ہزار پانچ سوروپے اور ڈائریکٹر کو چالیس فیصد یعنی چار ہزار روپے اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو تینتالیس فیصد یعنی چار ہزار تین سو روپے بطور کمیشن دیا جاتا ہے۔ مندرجہ بالا ممبران میں سے کوئی بھی اگر مہینہ بھر ممبر فراہم نہ کر سکے تو ان میں سے کسی کو بھی کمیشن نہیں ملتا(کمیشن اسی ماہ ملے گا جب ممبران کوئی ممبر فراہم کریں گے)کمپنی کے مذکورہ بالا طریقہ کار میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرعی نقطۂ نگاہ سے اس کا روبار کی دو صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ کمپنی کا مقصد دوائی ہی بازاری قیمت کے مطابق فروخت کرنا ہے۔محض کاروبار کو وسعت دینے کی غرض سے اپنے ممبر کو گاہک فراہم کرنے پر کمیشن دیتی ہے اور کمیشن بھی طے شدہ ومتعین ہے تو یہ صورت جائز اور درست ہے جیسا کہ ہمارے سابقہ فتویٰ میں تحریر ہے۔ دوسری صورت یہ کہ کمپنی کا مقصد دوائی فروخت کرنا نہیں بلکہ کمیشن کے حصول کے لیے لوگوں کو اس مخصوص طریقہ کار میں جوڑنا اور نفع کمانا مقصد ہو تو یہ کاروبار جائز نہیں ،نہ تو کمپنی کے لیے جائز ہے کہ وہ یہ کاروبار کرے اور نہ ہی کسی دوسرے کے لیے کمیشن لینا جائز ہے۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کا مقصد دوسری ہی صورت ہے اور اس پر قرینہ درج ذیل چند باتیں ہیں :