کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 610
اس کمپنی نے عوام کو ایسا بیوقوف بنایا ہے کہ کوئی ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔ گولڈن کی انٹر نیشنل کمپنی کا کاروبار شرعاً جائز نہیں (مولانا تقی عثمانی کی تصدیق سے دار العلوم کراچی کا فتویٰ) سوا ل میں ذکر کردہ کمپنی کے کاروبار پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کاروبار کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں : ٭کمپنی اپنی جو اشیاء فروخت کرتی ہے واقعتا کمپنی کا مقصد یہی اشیاء فروخت کرنا ہو ، اور ان چیزوں کی بازاری قیمت بھی واقعی وہی ہو جس پر وہ فروخت کر رہے ہیں تو اس مذکورہ کاروبار کی صورت یہ ہوگی کہ کمپنی اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے اپنے گاہک مہیا کرنے والوں کو ایک خاص انداز سے کمیشن دیتی ہے اور اس طرح گاہک مہیا کر کے کمیشن لینا شرعاً جائز ہے ۔ ٭دوسری صورت یہ ہے کہ کمپنی کا مقصد اشیاء فروخت کرنا نہ ہو بلکہ لوگوں کو کمیشن کے حصول کی اس مخصوص صورت میں جوڑنا مقصود ہو اور بظاہر اس سوال کی تفصیلات سے اور سائل نے زبانی جو صورتِ حال بتائی تھی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کا اصلی مقصد وہ چیز فروخت کرنا نہیں ، کیونکہ اتنی معمولی چیز جس کی مقدار بقول سائل کے ۶۰۰ گرام ہے اور چند فروٹون کے پوڈر پر مشتمل دوائی نما چیز ہے جو ۱۷۲۰۰ روپے کی نہیں ہو سکتی اور صرف اس چیز کو استعمال کرنے کے لیے کوئی بھی ۱۷۲۰۰ خرچ نہیں کرے گا۔ بلکہ اصل مقصد اس کمپنی کا ممبر بن کر نفع کماناہے۔ اگر صورتحال یہی ہے تو یہ سارا کاروبار در حقیقت قمار( جوا) ہے او رناجائز ہے کیونکہ اصل قیمت کی حد تک تو اس چیز کی خرید و فروخت درست ہو گی اور خریدنے والا اس چیز کا مالک ہو گیا مگر اس سے زائد رقم جو ادا کی گئی ہے وہ داؤ پر لگی ہوئی ہے ، اگر خریدار کوئی گاہک مہیا نہ کر سکا تو اس کو رقم واپس نہیں ملے گی ، اور اگر گاہک مہیا کر لے تو اس جمع کردہ رقم پر نفع ملے گا اور یہی جوا اور قمار ہے ۔ لہٰذا اس صورت کے پیش نظر اس میں شامل ہونا ، اور اس طرح نفع حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم محمد افتخار بیگ عفی عنہ دار الافتاء دار العلوم کراچی ۱۴ الجواب الصحیح الجواب الصحیح الجواب الصحیح احقر محمد تقی عثمانی عفی عنہ(مفتی) احقر محمود اشرف غفرلہ (نائب مفتی) اصغر علی ربانی ۱۴۲۲ھ۔۵۔۲۲ ۱۴۲۲ھ۔۲۔۲ ۰۱۴۲۱ھ۔۲۔۲۰