کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 609
پیش کیا ۔ پیسے کے لالچ اور گھر کی بیماریوں کو دیکھتے ہوئے میں/۱۹۰۰۰روپے والی دو ممبر شپ یعنی/۳۸۰۰۰روپے ضائع کر کے ’’گولڈن کی ‘‘ کی دوائی گھر لایا جو میں نے اپنے والد کو جوڑوں کے درد اوروالدہ کو معدے کی بیماری کے لیے استعمال کرائی مگر انہیں کچھ افاقہ نہ ہوا ۔ میں نے ۴ ممبر بنائے ، سب متنفر ہو گئے ۔ ان کی وجہ سے مجھے ساڑھے چار ہزار کی کچھ رقم تو واپس مل گئی مگر جب ان کے کسی مریض کو افاقہ نہ ہوا تو اب وہ مجھے برا بھلا کہتے رہتے ہیں ۔ اب میں ان سے ملنے سے بھی گریز کرتا ہوں ۔ اس کام میں محنت اور جھوٹ بہت ہے مگر آؤٹ پٹ کچھ نہیں ۔ بیکن لائٹ گرامر ہائی اسکول گرین ٹاؤن کراچی کے پرنسپل ایڈووکیٹ ملک نعیم اختر نے نمائندہ مجلہ الدعوۃ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گولڈن کی پیسہ کمانے کا ذریعہ ہے ۔ بشرطیکہ بندہ سامنے والے کو اپنی چرب زبانی سے شیشے میں اُتار لے۔ ان کی پروڈکٹ خریدی تو تھی مگر استعمال نہیں کی لہٰذا نتائج کا علم نہیں ۔ اس کمپنی کے مینجر شہزاد نے میرے سامنے ۱۰ ہزار روپے کا فراڈ کیا ۔ جب میں نے کمپنی سے شکایت کی تو انہوں نے اس کی تصویر دفتر میں آویزاں کر کے مجھے ٹھنڈا کر نے کی کوشش کی ۔ میں ایک ایڈووکیٹ ہونے کے ناطے سے عدالت میں گھسیٹ سکتا تھا مگر محلے داری کی وجہ سے خاموش ہو گیا۔ اس گیم میں آپ کو شامل کرنے والے محلے دار ، دوست یا رشتہ دار ہوتے ہیں جن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عورت جو کرایہ کے مکان میں رہتی تھی ، اُدھار رقم لے کر آئی کہ میں ممبر بننا چاہتی ہوں مگر میں نے اسے سمجھایا کہ یہ فراڈ ہے ۔ میرے کہنے پر وہ باز آگئی۔ مجھے بد دعا سے بہت ڈر لگتا ہے۔ محمد یوسف جو محمود آباد میں ایک ٹریول ایجنسی چلاتے ہیں ، نے نمائندہ مجلہ الدعوۃ کو بتایا کہ میرے ماموں کا لڑکا گولڈن کی کا ممبر بنا اور اس کی دعوت پر میں نے بھی/۱۹۰۰۰روپے دے کر ممبر شپ حاصل کی ، مجھے بتایا گیا تھا کہ آپ کو ممبر بننے کے بعد ہر ماہ ۱۲۵۰ روپے کا چیک ملے گا مگر بعد میں معلوم ہوا کہ مجھے بیوقوف بنایا گیا ہے ۔/۱۹۰۰۰روپے خرچ کر کے حاصل ہونے والا سفوف زیادہ سے زیادہ/۱۲۰۰،/۱۰۰۰ روپے کا ہے اور ۱۲۵۰ روپے کا چیک بھی ایک ممبر لانے پر ایک مرتبہ ملے گا۔ نئے لوگ مشکل سے بنتے ہیں مگر کمپنی کے مالکان لاکھوں کروڑوں روپے ہضم کر چکے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہماری ٹریننگ کے دوران ایک ڈائریکٹر نے بتایا کہ میں کسی کمپنی میں مینجر تھااور میری تنخواہ ۲۳۰۰۰ روپے علاوہ بونس تھی میں وہ چھوڑ کر یہاں آیا ہوں اور لاکھوں روپے ماہانہ کما رہا ہوں مگر اگلے ہی روز مجھے معلوم ہوا کہ وہ گولڈن کی کا ملازم ہے اور پرانے ماڈل کی سی ڈی ۷۰ کا مالک ہے ۔