کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 604
بہت معمولی محنت سے بہت زیادہ دولت کما سکتے ہیں ۔ گولڈن کی والوں کے مطابق ممبر صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دو ممبر بنانے کے بعد بھی آخری ممبر تک کچھ نہ کچھ محنت ضرور کرتا ہے اگرچہ اگلے ممبرز بنانے کی بنیادی ذمہ داری B,C اور ان کے بعد کے ممبران کی ہوتی ہے لیکن ممبر اگلے تمام ممبران کو ممبرز بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر ترغیب و رہنمائی تو دیتا ہے حالانکہ عملی حقیقت یہ ہے کہ ممبر پہلے دو ممبران(,) بنائے اور اگلے ممبران پر محنت نہ بھی کرے اور صرف اگلے ممبران ہی محنت کرتے رہیں کیونکہ آگے بنیادی ذمہ داری اگلے ممبران ہی کی ہوتی ہے تو ممبر سازی کا سارا نیٹ ورک بھی مکمل ہو جائے گا اور نیچے اسی طرح کے مطلوبہ ممبرز اور مینجرز وغیرہ پیدا ہو جائیں گے اور یوں ممبر کو پورا مقررہ کمیشن مل جائے گا۔ 3۔ایک تیسری صورت ہے کہ بندہ صرف کام ہی کر لے اس کا اپنا کوئی مال اس میں لگا ہو انہ ہو ۔جیسے کوئی شخص مضاربت پر محنت کر رہا ہے یا کسی اور شخص کے کام میں شریک ہے کہ نفع آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ اس صورت میں بھی آدمی اپنی محنت کے نتیجہ میں نفع حاصل کر رہا ہے۔ جبکہ کمیٹی کا ممبر دوسروں کی محنت کے نفع میں شریک ہوتا ہے۔ لہٰذاا ن وجوہات کی بناء پر اس کمپنی کا تمام کاروبار سود کے زمرہ میں آتا ہے۔ ٭پھر شریعت اسلامیہ کا مسلمہ ضابطہ ہے کہ کسی بھی کام اور معاملے پر حکم اس کے مقصد کے اعتبار سے لگایا جاتا ہے۔ اگر کام حلال ہے مگر جس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے ، وہ خلاف شریعت ہے اور حرام ہے تو اس کا حکم اور ہو گا اور اگر وہ حلال موافق شریعت مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے تو اس کا حکم اور ہو گا۔ انگور کی تجارت کرنا اور اسے فروخت کرنا حلال ہے لیکن جب اس کے بارے میں یقین ہو گا کہ وہ شراب کشید کرنے کے لیے خریدنا چاہتا ہے تو اس کا حکم اور ہو گا ۔ مکلف کے تمام قولی اور فعلی معاملات میں یہی اصول ہے۔ اس اصول کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو: ’’گولڈن کی ‘‘ کمپنی والوں کے کاروبار کا ایک حصہ وہ ہے جسے وہ اپنی مصنوعات کہتے ہیں جن میں اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ رکھی ہوئی ہیں ، دوسرا حصہ ممبر بنانا ہے اور اپنے بننے والے ممبروں کو اپنی آمدن میں شریک کرنا۔‘‘ ان دونوں میں سے کمپنی کا اصل مقصد ممبر بنانا ہے مصنوعات تو صرف بطورِ حیلہ اور لوگوں کو دکھانے کے لیے ہیں کہ وہ صحیح اسلامی حلال تجارت کر رہے ہیں ۔ اس بات کی واضح دلیل یہ ہے کہ کمپنی اپنی مصنوعات کو کھلی مارکیٹ میں نہیں لاتی ۔ صرف اپنے بننے والے ممبروں کو دیتی ہے ۔ اگر کوئی ممبر بننے کے بغیر لینا چاہے تو بھی بلاواسطہ نہیں بلکہ