کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 598
کمپنی کی بظاہر ان شفا بخش ادویات کے بار ے میں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایسی دوائیاں اور فوڈ سپلیمنٹ وقتی طور پر جسم کی قوت مدافعت Internal resistanceبڑھا دیتی ہیں اور کئی بیماریاں عارضی طور پر دب جاتی ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ وہ شفا یاب ہو رہا ہے ۔ کھلاڑی ،باڈی بلڈرز وغیرہ بھی ایسی دوائیاں اور خوراکیں استعمال کرکے سپر مین بن جاتے ہیں لیکن انہیں چھوڑتے ہی وہ مزید کئی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ باقی ۵۰ ، ۶۰ فیصد تک لوگ کوئی بھی دوائی استعمال کرنے سے وقتی طورپر ٹھیک ہو جاتے ہیں اور دوبارہ حالت وہی ہو جاتی ہے۔ اور یہ بھی کمپنی کا اپنا دعویٰ ہے کہ فلاں مریض کو اتنے فیصد شفا مل گئی ہے۔ کیا ان کے پاس کوئی ایسا آلہ ہے کہ جو یہ فیصد نکال سکے۔ ان کی دوائیں مشکوک ہونے کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ ایک طرف تو یہ عام لوگوں کو اپنا فوڈ سپلیمنٹ بے شمار بیماریوں کا کامیاب علاج بتاتے ہیں لیکن ساتھ ہی اپنے لٹریچر میں اس کے تعارف کے آخر میں چھوٹا سا لکھا ہے: No need to discontinue your regular medicines already in use. After getting good results from yu-yuan-zu you may daiscontinue your regular medicines gradually. Results of yu-yuan-zu may vary from person to person because of different body factors. ’’جب تک آپ yu-Yuan-Zu سے اچھے نتائج حاصل نہ کر لیں معمول کی ادویات لینا ترک نہ کریں ۔ آپ ان کو آہستہ آہستہ چھوڑ سکتے ہیں ۔ یو یو آن زو کے نتائج مختلف لوگوں میں مختلف باڈی فیکٹرز کی بناء پر مختلف ہو سکتے ہیں ۔‘‘ قارئین کرام ! یہ تو حال ہے گولڈن کی انٹر نیشنل کی ادویات نما اشیاء کی حقیقت کا جس کی کچھ تفصیل آپ جناب ریاض الحسن نوری سابق مشیر وفاقی شرعی عدالت کے تبصر ے میں پڑھیں گے۔ اب ان کی مارکیٹنگ کے طریقہ کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے تو اس بارے میں اور دیگر کمپنیوں کی مارکیٹنگ کا تفصیلی شرعی جائزہ آپ علماء کے درج ذیل تفصیلی شرعی جائزے میں ملاحظہ فرمائیں : فراڈ کمپنیوں کے بارے نائب مفتی جماعۃ الدعوۃ حافظ عبدالرحمن عابد کا فتویٰ اسلام وہ دین ہے جو اللہ تعالیٰ نے جبریل امین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ امام الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کو مکمل کر کے قرآن مجید کے اندر اس کا اعلان فرما دیا۔ اب مسلمانوں پر قیامت تک کے لیے زندگی کے تمام شعبوں میں ان سے رہنمائی لینی ہی کافی ہے۔اب ان کو نہ کسی دوسرے دین کی ضرورت ہے