کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 593
شرعی جائزہ میں آ جائے گی ۔ دوسری سکیم بزناس(Biznas) کے نام سے انٹر نیٹ پر کچھ پیکج دے کر ممبر سازی کرتی ہے جس کے نتیجے میں اصل رقم سے کافی زائد رقم کا لالچ دیا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل بھی علماء کے شرعی جائزے میں ملاحظہ فرمائیں ۔ گولڈن کی انٹر نیشنل۔ تعارف و احوال تیسری کمپنی گولڈن کی انٹرنیشنل ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اسی سکیم سے تعارف حاصل ہوا۔ اس کے جس ممبر نے ہمیں تعارف کرایا وہ بڑا ہی خوبصورت ریلنگ والا ڈبہ اور ایک چمکتی دمکتی فائل لیے کھڑا تھا۔ معلوم ہوا کہ یہ اس کمپنی کی طرف سے ایک خاص قسم کا فوڈ سپلیمنٹ ہے جو ایک سفوف کی صورت میں ڈبے میں موجود ہے۔ یہ کمپنی سے ۱۹ ہزار روپے میں ملتا ہے۔ موصوف نے کہا کہ آپ بھی کمپنی جا کر اسے خریدیں تو نہ صرف اس سے آپ کی بہت سی بیماریوں کا علاج ہو گا بلکہ اس طرح آپ کمپنی کے ممبر بن کر ایسے کاروبار میں شریک ہو جائیں گے کہ آپ تھوڑے ہی عرصے میں معمولی وقت لگا کر لاکھوں حاصل کر لیں گے۔ یہ سب سن کر ہمارے چودہ طبق روشن ہو گئے۔ ہم نے جب سوال کیا کہ یہ آخر کون سی بیماریوں کا علاج ہے تو فرمایا کہ یہ شوگر ، بلڈ پریشر ، ہیپا ٹائٹس ، دل اور کینسر سمیت بہت سی بیماریوں کا علاج ہے اور کئی لوگوں کو اس سے فائدہ ہوا ہے جس کے شواہد موجود ہیں ۔ ہم نے کہا: اگر کمپنی نے اتنی بڑی ایجاد کی ہے پھر تو اسے اخبارات میں فوراً اشتہار دینا چاہیے۔ اس سے تو طب و سائنس کے میدان میں ہلچل مچ جائے گی اور جو منافع کمپنی نے لمبے عرصے کے بعد حاصل کرنا ہے ، وہ اخبارات میں اشتہاردے کر بہت تھوڑے عرصے میں حاصل کر لے گی۔ اس پر موصوف کبھی تو جواب دیتے کہ کمپنی دراصل غریب عوام کی بھی بھلائی چاہتی ہے کہ نہ صرف انہیں صحت ملے بلکہ ہمارے مخصوص طریقہ کاروبار میں شامل ہو کر ایسا کاروبار بھی ملے کہ جس میں انہیں اپنی اصل رقم سے بھی کئی گنا زیادہ رقم واپس مل جائے۔ اور کبھی وہ کمپنی کی اشیاء اور طریقہ کاروبار پر ہمارے سوالات و اعتراضات پر کہتے کہ دراصل ہم آپ کو قائل نہیں کر سکتے۔ کمپنی کے دفتر میں نئے لوگوں کے لیے روزانہ لیکچر ہوتا ہے آپ وہاں ایک دفعہ آئیں ۔ آپ کو ہر بات کلئیر ہو جائے گی۔ بعد کی ملاقاتوں میں آخر یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ انہیں دراصل زیادہ اعتراضات کا جواب نہ دینے کی ہی کمپنی سے ہدایت ہے کہ آپ خود قائل نہیں کر سکتے ۔ لوگوں کو کلاس میں لے کر آئیں ۔بس اتنا ہی کافی ہے ۔ ہم حیران تھے کہ یہ خود بھی لیکچر سن چکے ہیں تو پھر اس لیکچر کا خلاصہ ہمیں یہیں کیوں نہیں بتا دیتے۔ بہر حال چار و ناچار حقیقت پانے