کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 591
خریدے جو اس کی قوتِ خرید سے باہر ہے جبکہ وہ اس مہنگے کپڑے کی بجائے سستا کپڑا لے کر بھی گزارہ کر سکتا ہے اور اسی طرح مہنگے پھلوں مثلاً سیب وغیرہ کی بجائے وہ شخص کسی حد تک وہی فائدہ گاجر اور شلجم وغیرہ سے حاصل کر سکتا ہے ( جو سستے داموں دستیاب ہو جاتے ہیں ) تو کیاایسی اشیاء کا بھی مہنگا فروخت کرنا ممنوع و حرام ہے۔۔ حلفاً تصدیق کی جاتی ہے کہ مندرجہ بالا تحریر و سوالات سائل کے حد علم و یقین میں صحیح و درست ہیں اور ان کی صحت کا خود ذمہ دار ہے۔ (راؤعبید الرحمن خاں ، سابق ڈپٹی سٹیبلشمنٹ کمشنر) ج: جس کمپنی کے متعلق آپ نے ایک سوالنامہ ارسال فرمایا اس کمپنی اور اس نوع کی دیگر کمپنیوں کا کاروبار ناجائز اور حرام ہے جناب اس کی تفصیل چاہتے ہیں تو مجلۃالدعوۃ جلد۱۳، رجب۱۴۲۳ھ ، شمارہ ۹ میں شائع شدہ مضمون’’لوٹ کھسوٹ کی سکیمیں اور کمپنیاں ‘‘ کا مطالعہ فرما لیں ۔ ۲۹/۷/۱۴۲۳ھ لوٹ کھسوٹ کی سکیمیں اور کمپنیاں قارئین کرام! کچھ عرصہ قبل انعامی بانڈز اور ان کی پرچیوں کا ملک میں بڑا شہرہ ہوا۔ لوگوں کو اس کاروبار میں اس قدر چسکا نظر آیا کہ نہ صرف غریب مزدور اپنی تمام پونجی اس کاروبار کی نذر کرنے لگے بلکہ اچھے بھلے کاروبار کرنے والوں نے بھی یہی کاروبار اپنالیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے کپڑے ، میڈیسن ، جنرل سٹورز اور ہوٹل وغیرہ انعامی بانڈز کی دکانوں میں بدل گئے اور ہر بازار میں آدھی دکانیں یہی نظر آنے لگیں یہ کاروبار اگرچہ اب بھی جاری ہے لیکن حکومت کی طرف سے کچھ نوٹس لینے پر اب کافی کمی آ چکی ہے۔ اس کے عروج پر حالت یہ ہو گئی تھی کہ ۴۲ ارب کے بانڈز ڈیلرز کے پاس تھے اور حکومت اس قدر یرغمال ہو گئی تھی کہ کم از کم پرچی کے کاروبار کی بد عنوانیاں اور لوٹ کھسوٹ روکنے سے بھی قاصر ہوگئی تھی اور عوام کی ایک بڑی رقم محض بانڈوں کے بے کاروبے مصرف کاروبار میں بلاک ہو گئی تھی۔ معاشرے کے لیے اصل فائدہ مند کاروبار کارخانے اور صنعتیں بند ہونا شروع ہو گئے ،سود اور جوئے وغیرہ کے کاروبار میں ہوتا ہی یہ ہے کہ معاشرے کاایک کثیر سرمایہ بے کار کام کی نذر ہو جاتا ہے اور لوگ محنت کر کے اور اس معاشرے کے لیے مفید چیزیں بنا کر پیسہ کمانے کی بجائے بیٹھے بٹھائے ہی کھانا چاہتے ہیں جس سے ملک کی اصل ترقی رُ ک جاتی ہے ۔ اس میں چند لوگوں کی تو چاندی ہو جاتی ہے ، چند لوگ سرمایہ دار بن جاتے ہیں اور باقی اپنی قسمت کو روتے پیٹتے رہتے ہیں ۔ انعامی بانڈز کی ان سکیموں میں ابھی کچھ کمی ہوئی تھی کہ یہ صیاد لوگوں کی رقوم