کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 587
اب میں وہ رقم جتنی دی ہوئی ہے وہ اگر مجھے مل جائے، مجھے کافی ہے لیکن ایجنٹ لوگ یہی دلائل دیتے ہیں کہ یہ جائز ہے میں اگر بیمے کی رقم لوں یا لے کر کسی غریب کی مدد کر دوں تو کیا یہ میرے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے؟ (۲).....میرے بھتیجے اور میرے بیٹے کا ایکسیڈنٹ موٹر سائیکل پر تھے گاڑی سے ٹکر ہوئی جس سے دونوں کی ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور میرے بیٹے کے دماغ میں بھی چوٹ لگی تھی اب ماشاء اللہ بہتر ہو رہے ہیں ۔ وہ گاڑی والا اس وقت گاڑی چھوڑ کر بھاگ گیا تھا اب ہمارے بچے معاوضہ اُن سے مانگتے ہیں ، وہ تیس ہزار تک معاوضہ دیتے ہیں حالانکہ ہمارا تقریباً دونوں کا دو ،سوا دو لاکھ خرچ ہوچکا ہے۔ اگر ہم اُن سے معاوضہ لیں تو کیا یہ بھی جائز ہے؟ (۳).....بیوہ عورت قومی بچت سکیم بینک میں رقم رکھ کر منافع لے سکتی ہے یا نہیں ؟ (۴).....کرائے کے مکان کی کمائی جائز ہے ؟ یعنی اپنا گھر اگر کرائے پر دے دیں ؟ (بنت محمد حفیظ، گوجرانولہ) ج: بیمہ ناجائز اور حرام ہے خواہ زندگی کا ہو، خواہ دوکان کا ، خواہ مکان کا، خواہ فیکٹری و کارخانہ کا ، خواہ کاروبار کا ، خواہ بس ٹرک کا ر کا ، خواہ کسی اور چیز کا بیمہ اپنی تمام اقسام کے ساتھ حرام اور ناجائز ہے کیونکہ اس میں جوا، اور سود دونوں پائے جاتے ہیں ۔ اور معلوم ہے کہ اسلام میں یہ دونوں ناجائز اور حرام ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَحَرَّمَ الرِّبٰوا﴾[البقرۃ:۲۷۵][’’اور اس نے حرام کیا سود کو‘‘]﴿ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَo﴾ [المآئدۃ: ۹۰] [’’بے شک شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر یہ سب گندی باتیں شیطانی کام ہیں ان سے الگ رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔‘‘] رہی یہ بات کہ بیمہ لوگوں کے ساتھ تعاون کی ایک صورت ہے تو یہ بات بے بنیاد ہے جن لوگوں نے بیمہ نہیں کروایا ہوتا ان کو بھی حادثات پیش آتے ہیں ان کا بھی جانی اور مالی نقصان ہو جاتا ہے ان کی بیویاں بھی بیوہ ہو جاتی ہیں ان کے بچے بھی یتیم ہو جاتے ہیں کیا پھر بیمہ کمپنیاں ان کے ساتھ تعاون کرتی ہیں ؟ نہیں ہر گز نہیں ! آخر کیوں ؟ صرف اسی لیے کہ انہوں نے بیمہ نہیں کروایا نہ وہ مخصوص رقم جمع کرواتے ہیں ۔