کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 584
مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی دو مہینوں کے لیے دو دینار پر ایک چیز خریدتا ہے اور اگر تین مہینوں کے لیے خریدے تو تین دینار کی خریدتا ہے ، یہ ایک ’’بیع میں دو بیع ‘‘ کے معنی میں ہے ۔‘‘ سماک سے مذکور اس کی تفسیر قریب ہی گزری ہے ، اسی طرح عبدالوھاب بن عطاء اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں یعنی کہے:’’ نقد یہ تیرے لیے دس کی ہے اور اُدھار بیس کی ‘‘ انتہی(۵؍۱۵۱) اس کی تائید بغوی کی اس حدیث :(( وَلَا شَرْطَانِ فِیْ بَیْعٍ)) کی تفسیر سے بھی ہوتی ہے جسے ہم پہلے نقل کر آئے ہیں ، انہوں نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے:(( فَمَعْنَاہُ مَعْنَی الْبَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ)) کہ اس کا معنی ایک بیع میں دو بیع کرنا ہی ہے۔ صاحب تہذیب السنن (رَحِمَہُ ا للّٰه ذُوالْمِنَنِ) بیع عینہ کی حرمت کے دلائل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : چھٹی دلیل ابو داؤد میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) علماء کے اس کی تفسیر میں دو قول ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ کہے: نقد( یہ چیز) تمہیں دس کی ، یا اُدھار بیس کی دیتا ہوں ۔ یہی بات احمد نے سماک سے روایت کی ہے۔ چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہما والی حدیث : ((نَھٰی رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَنْ صَفْقَتَیْنِ فِیْ صَفْقَۃٍ)) کی تفسیر میں سماک فرماتے ہیں : ’’ آدمی ایک چیز بیچتا ہے تو کہتا ہے : اُدھار اتنے کی بیچنا مجھے منظور ہے اور نقد اتنے کی ‘‘ لیکن یہ تفسیر ضعیف ہے کیونکہ اس صورت میں رِبا ( سود) نہیں بنتا اور نہ ہی دو سودے بنتے ہیں بلکہ یہ دو قیمتوں میں سے ایک کے ساتھ ایک ہی سودا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ کہے: میں یہ چیز تمہیں ایک سال کے اُدھار پر ایک سو کی اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ اسے تجھ سے ابھی اسی (۸۰)کی خریدوں گا۔ بس حدیث کا یہی معنی ہے ، کوئی اور معنی نہیں ، اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول :((فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) کے بھی مطابق ہے۔کیونکہ یا تووہ زائد قیمت لے گا جو کہ سود ہے یا پہلی قیمت لے جو کہ کم ہے۔ یہ صورت ایک سودے میں دو سودے والی بنتی ہے ، کیونکہ اس نے نقد و اُدھار کے دونوں سودوں کو ایک سودے اور بیع میں جمع کر دیا ہے اور وہ فوری اور نقد تھوڑے درھم دے کر تاخیر سے زیادہ درھم لینے چاہتا ہے حالانکہ وہ اپنے اصل مال جو کہ دو قیمتوں سے کم قیمت ہے ، کا مستحق ہے لیکن اگر وہ زائد ہی لے تو اس نے سود لیا۔انتہی(۵؍۱۰۵۔۱۰۶) اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری صورت میں اسی ( ۸۰) کی سو کے ساتھ بیع کی گئی اور یہ بیع سود ہے اور اسی طرح اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پہلی صورت میں دس کو بیس کے ساتھ بیچا گیا ، اور یہ بیع بھی سود ہے۔ تو پہلی