کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 583
بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))کے بھی مخالف ہے۔ پھر صاحب مضمون کے اپنے طریقے اور منہج کے مطابق بھی یہ دلیل صحیح نہیں بنتی کیونکہ وہ اس کے مثل سے معارض ہے ، چنانچہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ :((نَھٰی رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَنْ صَفْقَتَیْنِ فِیْ صَفْقَۃٍ)) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سودے میں دوسودے کرنے سے منع فرمایا) جیسا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے انہوں نے فرمایا:(( اَلصَّفْقَتَانِ فِی صَفْقَۃٍ)) ’’ایک سودے میں دو سودے کرنا سود ہے۔‘‘ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں : (( أَنَّـہٗ نَھٰی عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ ، وَعَٰنْ شَفٍّ مَالَمْ یَضْمَنْ وَعَنْ بَیْعٍ وَسَلَفٍ)) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیع کرنے سے منع فرمایا ، نفع اور فائدہ لینے سے منع فرمایا جب تک ضامن نہ بن جائے اور بیع و سلف سے منع فرمایا۔ صاحب شرح السنہ فرماتے ہیں : ایوب از عمرو بن شعیب از أبیہ از جدہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( لَا یَحِلُّ سَلَفٌ وَبَیْعٌ وَلَا شَرْطَان فِیْ بَیْعٍ وَلَا رِبْحُ مَالَمْ یَضْمَنْ ، وَلَا بَیْعُ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ)) ’’سلف و بیع جائز نہیں ، ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں ، ایسی چیز کا منافع لینا جائز نہیں جس کا ابھی ضامن نہیں بنا اور نہ ایسی چیز کی بیع جائز ہے جو تیرے پاس موجود نہیں ۔‘‘ پھر اس کے بعد صاحب شرح السنہ لکھتے ہیں کہ:(( وَلَا شَرْطَانِ فِیْ بَیْعٍ)) سے مراد یہ ہے کہ کہے:’’ میں تمہیں یہ غلام نقد ہزار کا دیتا ہوں اور اُدھاردو ہزار کا ‘‘ تو یہ ایک بیع میں دو بیع ہی ہیں ۔انتہی محدث البانی إرواہ الغلیل میں فرماتے ہیں : عبداللہ بن عمرو کی حدیث عمرو بن شعیب از أبیہ از جدہ کی روایت سے مرفوعاً مروی ہے جس کا بیان ایک حدیث سے پہلے گزر چکا ہے ۔ اس کے الفاظ ابو ہریرہ کی پہلی حدیث والے ہی ہیں : (( نَھٰی رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ)) عبداللہ بن عمرو کی یہ حدیث ابن خزیمہ اور بیہقی میں موجود ہے اور امام أحمد اس حدیث کے ضمن میں اسے لائے ہیں جو پہلے گزر چکی ہے ۔ بعض نے اسے: ((وَلَا شَرْطَانِ فِیْ بَیْعَۃٍ)) (ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں ) کے الفاظ سے روایت کیا ہے ۔ ظاہراً یہی معلوم ہوتا ہے کہ دونوں الفاظ کا معنی ایک ہی ہے کیونکہ دونوں الفاظ عمرو بن شعیب کی سند سے مروی ہیں بعض رواۃ نے پہلے الفاظ روایت کیے ہیں اور بعض نے دوسرے۔ پھر غریب الحدیث (۱؍۱۸) میں ابن قتیبہ کا قول بھی اس کی تائید کرتا ہے وہ فرماتے ہیں : ’’ممنوع بیوع سے ’’شرطان فی بیع ‘‘ ( ایک بیع میں دو شرطیں )بھی ہے ، اور اس کا