کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 582
سامان کے لیے یہ کہنا کہ نقد اتنے کااور اُدھار اتنے کا ( سودا کر کے) دونوں ( بائع اور مشتری) اگر رضا مندی سے جدا ہو جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔‘‘ میں کہتا ہوں : اشعث بن سوار کندی کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے کیونکہ وہ ضعیف ہے۔ جیسا کہ تقریب میں ہے ، امام مسلم نے ان کی احادیث متابعت کے طور پر روایت کی ہیں ۔‘‘انتہی عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے جواز کی روایت ہے اگر صاحب مضمون کا اشارہ سنن أبی داؤد کی مندرجہ ذیل روایت کی طرف ہے : (( أَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم أَمَرَہٗ أَنْ یُّجَھِّزَ جَیْشًا فَنَفِدَتِ الْاِبِلُ فَأَمَرَہٗ أَنْ یَأْخُذَ عَلیٰ قَلَائِصِ الصَّدَقَۃِ ، فَکَانَ یَأْخُذُ الْبَعِیْرَ بِالْبَعِیْرَیْنِ إِلیٰ اِبِلِ الصَّدَقَۃ)) (مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق الألبانی :۲؍۸۵۸) ’’عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا ، اونٹ کم پڑ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: صدقے کی اونٹنیاں آنے تک اُدھار لے لو ، چنانچہ وہ صدقے کے اونٹ آنے تک دو اونٹوں کے بدلے ایک اونٹ لیتے تھے ( یعنی جس سے اُدھار اُونٹ لیتے اسے کہتے کہ جب صدقے کے اونٹ آئیں گے تو ہم تمہیں ایک کی بجائے دو اونٹ دیں گے)‘‘ تو اس روایت کے بارے میں محدث البانی کہتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح بتحقیق الألبانی :۲؍۸۵۸) پھر سمرہ بن جند ب رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ثابت ہے جو کہ ترمذی ، ابو داؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ، أحمد ، ابو یعلیٰ اور المختارۃ للضیاء میں ہے : ((أَنَّ النَّبِیَّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم نَھیٰ عَنْ بَیْعِ الْحَیَوَانِ نَسِیْئَۃً)) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کی حیوان کے ساتھ اُدھار بیع سے منع فرمایا۔‘‘ ترمذی اور ابن الجارود نے اسے صحیح کہا جیسا کہ ’’ تنقیح الرواۃ فی تخریج أحادیث المشکاۃ‘‘ میں ہے ۔ صاحب تنقیح فرماتے ہیں : عبداللہ بن أحمد نے اسی طرح جابر بن سمر رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے ۔ انتہی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ’’ موقوف ‘‘ ہے اور موقوف روایت حجت نہیں ہوتی ۔ خصوصاً جب وہ ایک دوسری موقوف روایت کے معارض ہو جیسے یہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول:’’ إِذ استقمت بنقد‘‘ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول: ’’الصفقتان فی صفقہ رِبا‘‘ کے معارض ہے بلکہ مرفوع حدیث: ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ