کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 581
دَرَاھِمٌ بِدَارِھِمٍ)) (جب تو چیز کی قیمت نقد لائے پھر نقد بیچ دے تو کوئی حرج نہیں ، اور جب نقد کی قیمت لگائے اور اُدھار بیچے تو یہ درہموں کی درہموں سے بیع ہے)جو جائز نہیں )‘‘سے حجت پکڑنا صحیح نہیں اس لیے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ قول اتنے ہی درجہ کے ایک دوسرے قول کے معارض اور برعکس ہے ۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یہ جائز ہے جب فریقین جدا ہونے سے پہلے ایسی بیع پر متفق ہو جائیں ۔ اور پھر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی اس کا جواز مروی ہے۔ انتہی۔ میں کہتا ہوں : ہم ایک چیز کے ’’نقد ایک قیمت پر اور اُدھار اس سے زیادہ قیمت پر بیچنے کو ، اسی طرح قسطوں کی بیع کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول یا دوسری موقوف اور مقطوع روایات کی بناء پر حرام نہیں سمجھتے ، ہم نے تو اپنے اس دعویٰ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مرفوع ، حسن اور صحیح حدیث سے ثابت کیا ہے ، جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ ابن عباس اور دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا قول تو ہم صرف تمہیں یہ بتانے کے لیے ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پر عمل کیا اور اس پر فتویٰ بھی دیا۔ صاحب مضمون نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے کیے گئے استدلال کو اس دلیل سے غیرصحیح کہا ہے کہ وہ اتنے ہی درجے کے دوسرے اقوال سے معارض ہے اور ٹکراتا ہے۔ صاحب مضمون کی یہ دلیل بڑی عجیب و غریب ہے ۔ کیونکہ کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ تم جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا جواز ثابت کر رہے ہو یہ صحیح نہیں اس لیے کہ ابن عباس کا وہ قول جو جواز والا ہے ان کے دوسرے عدم جواز والے قول ’’ إِذ استقمت بنقد ثم بعت ‘‘ کے معارض ہے؟ پھر ابن مسعود کے قول: ’’الصفقتان فی صفقۃ ربا‘‘ کے بھی معارض ہے؟ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کے جواز کا قول مروی ہے وہ ان سے ثابت ہی نہیں ، چنانچہ محدث البانی رحمہ اللہ تعالیٰ إرواہ الغلیل میں لکھتے ہیں : ((أَخرج ابْنُ أبِیْ شَیْبَۃ فِی الْبَابِ عَنْ أَشْعث عَنْ عِکْرَمَۃ عِن ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَا بَأسَ أَن یَّقُوْلَ لِلسَّلْعَۃِ ھِیَ بِنَقْدٍ بِکَذَا ، وَبِنَسِیْئَۃٍ بِکَذَا ، وَلٰکِنْ لَا یَفْتَرِقَا إِلاَّ عَنْ رِضًی ، قُْلْتُ: وَھٰذَا إِسْنَادٌ ضَعِیْفٌ مِنْ أَجْلِ أَشْعَثُ ھٰذَا ، وَھُوَ ابْنُ سِوَارٍ الْکِنْدِیُّ ، وَھُوَ ضَعِیْفٌ کَمَا فِی التَّقْرِیْبِ ، وَإِنَّمَا أَخْرَجَ لَہُ مُسْلِمٌ مُتَابَعَۃً)) (۵؍۱۵۲) ’’ ابن ابی شیبہ نے اس باب میں اشعث از عکرمہ از ابن عباس روایت کی ہے ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: