کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 580
لیے کہ حدیث حسن اور صحیح ہے ، نہ ضعیف ہے ، نہ شاذ اور نہ معلل ، لہٰذا اس سے حجت پکڑنا اور استدلال کرنا درست ہے۔ محدث البانی رحمہ اللہ تعالیٰ إرواء الغلیل میں فرماتے ہیں : ((۷۔۱۳قَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ ( صَفْقَتَان فِیْ صَفْقَۃٍ رِبًا) صحیح .....الخ)) ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’ایک چیز کے دو سودے کرنا سود ہے۔‘‘ البانی صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور اس کے شواہد ابو ہریرہ ، عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہم کی حدیث سے ملتے ہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی حدیث : ((عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍ و عَنْ أبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی ا للّٰه عنہم قَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃ))(النسائی:۲؍۲۷۷، الترمذی: ۱؍۲۳۲، ابن الجارود:۶۰۰،ابن حبان:۱۱۰۹،البیہقی : ۵؍۳۴۳، أحمد: ۲؍۴۳۲، ۴۷۵، ۵۳)امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ میں کہتا ہوں ، اس کی سند حسن ہے۔ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں : ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))(مصنف ابن ابی شیبۃ:۷؍۱۹۲،۲، ابو داؤد:۳۴۶۰، ابن حبان: ۱۱۱۰، الحاکم:۲؍۴۵، البیہقی:۵؍۳۴۳) امام حاکم نے کہا: مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ، ابن حزم نے بھی المحلی ( ۹؍۱۶) میں اسے صحیح کہا ، اسی طرح عبدالحق نے اپنی کتاب ’’الاحکام‘‘ میں اس حدیث کو ( پہلے الفاظ کے ساتھ) صحیح کہا۔ میں کہتا ہوں یہ صرف ’’حسن ‘‘ ہے کیونکہ محمد بن عمرو کے حافظے میں تھوڑا سا کلام ہے۔ امام بخاری نے باقی راویوں کے ساتھ ملا کر اس سے روایت کی ہے ، اور امام مسلم نے متابعت میں ۔ حافظ ابن حجرتقریب التہذیب میں فرماتے ہیں : صَدُوْقٌ لَہٗ أَوْھَامٌ ( صدوق ہے اور اسے بعض دفعہ وہم بھی ہوئے ہیں ) البانی رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا۔ فائدہ رابعہ: بعض کہتے ہیں حدیث تو صحیح ہے لیکن منسوخ ہے ۔ لیکن ان کی یہ بات محض دعویٰ ہے ، قرآن و حدیث سے اس کے نسخ کی کوئی دلیل نہیں ملتی اور منسوخ جیسے مسائل صرف دعوی کرنے سے ثابت نہیں ہوتے خواہ بڑے بڑے علماء ہی اس کا دعویٰ کریں ۔ صاحب مضمون لکھتے ہیں : ’’اسی طرح ان کا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس قول ((إِذَا سْتَقَمْتَ أَیْ قَوَّمْتُ السَلْعَۃَ بِنَقْدٍ ، ثُمَّ بَعْتَ بِنَقْدٍ فَلَا بَاْسٌ ، وَإِذَا اسْتَقَمْتَ بِنَقْدٍ ثُمَّ بِعْتَ بِنَسِیْئَۃٍ فَتِلْکَ