کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 579
الرِّبَا))دو بیعوں کو مشتمل ہے ، خواہ وہ حقیقی ہوں یا ان میں سے ایک حقیقی ہو۔اور دوسری مخفی اور تقدیری۔ تو دلیل دعویٰ سے اخص نہیں ۔ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اگر شروع سے ہی کہا جائے کہ ’’ اُدھار اتنے کی ‘‘ اور اُدھار کی وجہ سے پیسے بھی زیادہ لگا لے ، تو یہ حدیث کے منطوق میں داخل نہیں ہوتا لیکن ہم کہتے ہیں : ’’ حدیث کے مفہوم میں یہ چیز داخل ہے ، کیونکہ دوسری بیع یعنی ’’اُدھار اتنے کی ‘ اور ادائیگی کی تاخیر کی وجہ سے قیمت بھی زیادہ لگا لے تو یہ سودی بیع ہے ( جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے) خواہ ’’نقد اتنے کی ‘‘ کہہ کر کہے اور خواہ اس کے بغیر صرف یہی کہے کہ ’’ اُدھار اتنے کی ‘‘ مفہوم سے جو بات سمجھ میں آتی ہے اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ﴿وَلَا تَقُلْ لَّھُمَا اُفٍّ﴾ اور انہیں ( والدین کو) اُف نہ کہو۔‘‘ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : ((لَا یَبُوْلَنَّ أَحَدُکُمْ فِی الْمَائِ الدَّائِمِ)) [1] ( ’’تم میں سے ہر گز کوئی کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے۔‘‘)اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ جب والدین کو اُف کہنا حرام ہے تو جوتے کے ساتھ مارنابھی حرام ہے۔اور کھڑے پانی میں پیشاب کرنا حرام ہے تو پاخانہ کرنا بھی حرام ہے۔ تو کیا یہ کہا جائے گا کہ آیت اور حدیث میں تو یہ بات نہیں آئی کہ والدین کو جوتے کے ساتھ مارنا حرام ہے ، اور کھڑے پانی میں پاخانہ کرنا حرام ہے ، اس لیے کہ دلیل دعویٰ سے اخص ہے؟ ’’ نہیں ہر گز نہیں ‘‘ کیونکہ استدلال مفہوم سے لیا گیا ہے اور یہ صحیح استدلال ہے ، اس طرح جو استدلال ہم کر رہے ہیں وہ بھی مفہوم سے ہی سمجھ آرہا ہے ، لہٰذا ان کا یہ کہنا صحیح نہیں کہ ’’ حدیث اس پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ دلیل دعویٰ سے اخص ہے۔‘‘ ان کا استدلال ’’علت کے ساتھ استدلال کرنے کی قبیل سے ہے کیونکہ یہ صورت کہ ’’ میں نقد تمہیں یہ چیزدس درھم کی دیتا ہوں اور یہی چیز اُدھار پندرہ درھم کی دیتا ہوں ۔‘‘دوسری بیع کی حرمت کی علت ’’سود‘‘ کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ۔ اور اگر کوئی آدمی کوئی چیز اُدھار اس وجہ سے موجودہ ریٹ سے زیادہ پر بیچتا ہے کہ پیسے تاخیر سے ملنے ہیں تو شروع سے ہی صرف اُدھار کی وجہ سے چیز کو زیادہ قیمت پر بیچنا سود اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قسطوں کی بیع میں نقد قیمت سے زیادہ لینا اسی قبیل سے ہے تو پھر قسطوں کی بیع کیسے جائز ہوئی جبکہ وہ سود پر مشتمل ہے؟ فائدہ ثالثہ: بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث: ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہُ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))ضعیف اور شاذ ہے لہٰذا اس سے حجت پکڑنا اور استدلال کرنا صحیح نہیں ۔‘‘ لیکن ان کی یہ بات درست نہیں ، اس [1] صحیح مسلم؍کتاب الطہارۃ؍باب النھی عن البول فی الماء الراقد: ۲۸۲