کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 578
متازع فیہ مسئلہ کو خاص اور مستثنیٰ کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ۔ یہ بات بھی ہے کہ ایک قفیز گندم کی دو قفیز کے ساتھ بیع منع اور سود ہے ، خواہ ایک دو دن یا مہینہ دو مہینہ تک کی مدت حائل نہ ہو بلکہ تاخیر ادائیگی کا اس میں دخل تک نہ ہو اور قیمت کی زیادتی بھی تاخیر کی وجہ سے نہ ہو ۔ تو ابن رسلان کی ذکر کردہ صورت میں دوسری بیع منع اور سود بنتی ہے خواہ وہ شروع سے ہی ایسا طے کیا جا رہا ہو۔ ہماری اس بات سے واضح ہو گیا کہ ابن رسلان کی ذکر کردہ صورت کا اس حدیث کی تشریح میں داخل ہونا ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))صحیح نہیں ۔لہٰذا ان کا یہ کہنا کہ ایک بیع میں دو بیعوں کے منع کی علت کا وہ احتمال ہو سکتا ہے جو متنازع فیہ مسئلہ کے علاوہ ہے۔ درست نہیں ہے ، کیونکہ حدیث میں ابن رسلان کی تفسیر والا احتمال بالکل نہیں پایا جاتا ۔ ابن رسلان کا احتمال پیچھے حدیث کی تفسیر میں میں نے صرف بطورِ نقل و حکایت ذکر کیا ہے۔ ہماری اس ساری بات چیت سے واضح ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث : ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))کا مصداق ایک صورت ہو یا کئی صورتیں ، انہیں ان چیزوں پر مشتمل ہونا چاہیے: (۱) وہ صورت ایسی ہو کہ اس میں ایک چیز کی دو بیعیں ہوں ۔ (۲)وہ دونوں بیعیں ایک بیع میں ہوں ۔ (۳)ان دونوں میں سے ایک بیع کم قیمت پر ہو۔ (۴)ان میں سے ایک کم قیمت والی بیع حلال ہو ، سود نہ ہو۔ (۵)دونوں میں سے ایک بیع زیادہ قیمت والی ہو۔ (۶) دونوں سے زیادہ قیمت والی بیع حرام اور سود ہو۔ (۷)دونوں بیعوں میں بائع ( بیچنے والا) ایک ہو۔ (۸)دونوں میں بیعوں میں سے اکثر اور زیادہ قیمت والی بیع کی حرمت کا سبب سود ہو۔ (۹)دونوں میں سے جس چیز کو فروخت کیا جا رہا ہو وہ ایک ہی چیز ہو۔ (۱۰)ایسی بیع کی حرمت ، جس کا ذکر کیا جا رہا ہے ، اس میں مندرجہ بالا نو چیزیں جمع ہوں ۔ ابن رسلان کی ذکر کردہ صورت میں بائع ( فروخت کنندہ) بدل گیا ہے ، کیونکہ پہلی بیع میں جو بائع ہے ، دوسری بیع میں وہ مشتری ( خریدار) ہوتا ہے ۔ اور پہلی بیع میں جو مشتری ہوتا ہے ، دوسری بیع میں وہ بائع بنتا ہے ۔ لہٰذا واضح ہو گیا کہ ابن رسلان نے جو صورت ذکر کی ہے وہ ان صورتوں سے نہیں جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث : ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))صادق آتی ہے ۔ بائع جب شروع سے صرف یہی کہے کہ ’’ادھار اتنے کی ‘‘ اور یہ نہ کہے کہ ’’نقد اتنے کی ‘‘ اور ادائیگی میں تاخیر کی وجہ سے قیمت زیادہ لگائے تو تحقیقاً تو یہ ایک بیع ہے اور تقدیراً یہ دو بیعیں ہیں ، اس لیے کہ وہ زیادہ پیسے ادائیگی کی تاخیر کی وجہ سے لے رہا ہے ۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان : ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ