کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 577
دوسری نئی بیع کے درمیان کوئی فرق نہیں ، کیونکہ دوسری نئی بیع میں ساری قیمت جب سامان فروخت کی مماثل نہیں ۔ کیونکہ تاخیر ادائیگی کی وجہ سے قیمت بڑھائی جا رہی ہے ۔ تو قسطوں کی بیع اور پہلی بیع میں بھی تمام قیمت سامان فروخت کے مماثل نہیں کیونکہ ان میں بھی زیادہ قیمت لینے کا دارو مدار تاخیر ادائیگی پر ہے۔ چند فوائد فائدہ اولیٰ: اکثر علما نے ایک بیع میں دو بیعوں کی ممانعت کی وجہ معاملہ کے مبہم اور مجہول ہونے کو ٹھہرایا ہے ۔ یہ بات ان اقوال سے ظاہر ہے جو شوکانی نے نیل الاوطار میں اور دوسرے علماء نے اپنی کتابوں میں ذکر کیے ہیں ۔ ’’ایک بیع میں دو بیعوں ‘‘ کی بعض صورتوں میں یہ وجہ ہو سکتی ہے لیکن اس حدیث : ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) میں منع کی علت یہ وجہ نہیں بلکہ اس میں ممانعت کی وجہ اس کا سود ہونا ہے جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وضاحت کی ہے۔ فائدہ ثانیہ: بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ایک بیع میں دو بیعوں کے منع کی علت کا وہ احتمال ہو سکتا ہے جو متنازع فیہ مسئلہ سے خارج ہے ، جس طرح ابن رسلان کا قول پیچھے گزرا ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس صورت میں واقع ہونے والی بیع ’’ نقد اتنے کی اور اُدھار اتنے کی ‘‘ کو منع کہہ سکتے ہیں لیکن اگر شروع ہی میں بات کرے کہ ’’ اُدھار اتنے کی دوں گا ‘‘ ( اور اس کی قیمت اس روز کے ریٹ سے زیادہ ہو) تو ایسی بیع جائز ہے، ویسے اس حدیث کا تمسک کرنے والے ( دلیل پکڑنے والے) اس صورت سے منع کرتے ہیں حالانکہ حدیث میں یہ معنی موجودنہیں ،تودلیل دعویٰ سے أخص ہے۔ ( انتہیٰ) میں کہتا ہوں : ۱۔اس کا یہ قول ایک بیع میں دو بیعوں کے منع کی علت کا وہ احتمال ہو سکتا ہے متنازع فیہ مسئلہ …ا گر تسلیم کر لیا جائے تو بھی متنازع فیہ مسئلہ پر حدیث سے کیے گئے استدلال میں کوئی خرابی لازم نہیں آتی کیونکہ حدیث عام ہے اور وہ ابن رسلان کی ذکر کردہ صورت اور متازع فیہ صورت دونوں کو شامل ہے اور حدیث کے عموم سے