کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 576
تو تین صورتوں میں سے آخری تیسری صورت جس پر حدیث ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) صاحب مضمون کے ہاں منطبق ہوتی ہے لیکن یہ حدیث ان الفاظ سے اس صورت پر منطبق نہیں ہوتی۔ جواب نمبر ۴:.....بیع عینہ .....ایک شخص کا دوسرے سے کوئی سامان اُدھار خریدنا، پھر فروخت کنندہ کا خریدار سے نقداً اُسے کم قیمت پر لینا ۔ بھی ان صورتوں سے نہیں جن پر حدیث ’’ فَلَہُ أَوْکَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا ‘‘ صادق آتی ہے کیونکہ حدیث میں ربا (سود)اضافی قیمت والی بیع کو کہا گیا ہے ، کم قیمت والی بیع کو نہیں ، جبکہ بیع عینہ میں معاملہ اس کے برعکس ہے ، اس لیے کہ اس میں کم قیمت پر خریدنا حرام ہے ، زیادہ قیمت پر خریدنا حرام نہیں ۔ اور اس لیے بھی کہ حدیث اس صورت کا ذکر کر رہی ہے جس میں ایک ہی بائع چیز کی دو بیعیں کرتا ہے ایک کم قیمت والی اور دوسری زیادہ قیمت والی ، جبکہ بیع عینہ میں ایسی صورت نہیں ۔ جواب نمبر ۵:.....جب دو صورتیں ’’ بیع عینہ اور بیع بشرط بیع ‘‘ صاحب مضمون کی حدیث((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) کے مصداق میں ذکر کردہ تین صورتوں سے نکل گئیں تو تین میں سے ایک صورت باقی رہ گئی جس کو حدیث شامل ہے اور وہ یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کوکوئی چیز ایک مہینہ کے اُدھار پر فروخت کرتا ہے ، جب ادائیگی کا وقت آتا ہے خریدار کے پاس قیمت موجود نہیں ہوتی تو بائع مشتری پر مزید بوجھ اس طرح ڈالتا ہے کہ وہی سامان اُسے دوبارہ نئی قیمت اور نئے اُدھار پر فروخت کرتا ہے جبکہ پہلی قیمت بدستور اُس پر واجب الادا رہتی ہے۔ تو اس صورت میں ’’ دوسری بیع ‘‘ صاحب مضمون کے نزدیک بھی سود ہے۔ اور جو دلیل اس دوسری بیع کو سود ٹھہراتی ہے وہ بعینہ ان دو بیعوں میں سے پہلی بیع کو سود ٹھہراتی ہے جب اس میں نقد کی قیمت سے زیادہ قیمت ہو۔ اسی طرح بعینہ یہ دلیل قسطوں کی بیع کو سود ٹھہراتی ہے کیونکہ قسطوں کی بیع دو بیعوں میں سے پہلی بیع ہے ، جب اس میں نقد کی قیمت سے زیادہ قیمت ہو ۔ یہ صورت بقیہ ایک صورت جیسی ہی ہے جو حدیث کے منطوق میں آتی ہے۔ ہاں اتنا فرق ہے کہ قسطوں کی بیع میں ادائیگی کی تاخیر کی وجہ سے قیمت قسطوں کی شکل میں ادا کرنا ہوتی ہے اور حکماً دونوں صورتیں ایک ہی ہیں ۔اس فرق سے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو کیا وجہ ہے کہ صاحب مضمون دوسری نئی بیع کو تو حرام اور سود قرار دیتے ہیں اور پہلی بیع خواہ نقد قیمت سے مہنگی ہو اسی طرح قسطوں کی بیع کو سود قرار نہیں دیتے ہیں ؟ اگر وہ کہتے ہیں : قسطوں کی بیع میں ساری قیمت سامان کے مماثل اور اس کی پوری قیمت ہے اور پہلی بیع دوسری نئی بیع کے علاوہ ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یہ محض دعویٰ ہے ، حالانکہ صورت مذکورہ میں ’’ قسطوں کی بیع پہلی بیع اور