کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 575
لِمَنْ قَال: یَحْرُمُ بَیْعُ الشَّیْئِ بِأَکْثَرِ مِنْ سِعْرِ یَوْمِہٖ لِاَجْلِ النَّسأ))[1] حدیث کے الفاظ ’’ فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا‘‘ یعنی دو قیمتوں میں سے ’’ کم قیمت ‘‘ کی بجائے اگر ’’زیادہ قیمت ‘‘ لے لے تو بائع اور مشتری دونوں حرام سود میں داخل ہو جاتے ہیں ۔ یہ بات ابن رسلان کی بیان کردہ تفسیر میں واضح ہے۔ رہی وہ تفسیر جو امام احمد نے سماک سے ذکر کی ہے اور امام شافعی نے بھی ذکر کی ہے تو اس سے اس آدمی کے قول کو تقویت ملتی ہے جو کہتا ہے ’’ کسی چیز کو اُدھار کی وجہ سے اس کی موجودہ قیمت سے زیادہ پر بیچنا حرام ہے۔‘‘ ہماری ان نقل کردہ عبارات سے معلوم ہوا کہ بیع کی یہ شکل ’’نقددس کی ، اُدھار پندرہ کی ‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) میں شامل ہے۔ اور بلا شبہ ’’قسطوں کی بیع جس میں تاخیر ادائیگی کی وجہ سے قیمت زیادہ کی جاتی ہے ‘‘ اسی سے ہے ۔ اور صاحب مضمون ان صورتوں میں جن پر حدیث منطبق ہوتی ہے اس صور ت کا ذکر چھوڑ گئے ہیں ۔ پھر ان کی یہ بات ’’ یہ حدیث قسطوں والی بیع پر منطبق نہیں ہوتی کیونکہ حدیث کا ان تینوں معانی جن میں قسطوں والی بیع جس میں قیمت بڑھائی جاتی ہے شامل نہیں ، میں سے ہی کوئی معنی مراد ہے ‘‘ فقہ و انصاف سے بالکل عاری ہے۔ جواب نمبر ۳:.....آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ صاحب مضمون نے کہا: بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی چیز اس شرط پر فروخت کرے کہ خریدار اسے کوئی دوسری چیز فروخت کرے۔ حالانکہ پہلے یہ کہہ کر آئے ہیں کہ : حدیث سے تین معانی میں سے ہی کوئی ایک معنی مراد ہے ۔ تو اب لکھ رہے ہیں کہ یہ صورت بھی حدیث ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْ کَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) کے تحت داخل ہے۔ پہلے امام شافعی کی تفسیر جو امام شوکانی نے نقل کی ہے بھی جان چکے ہیں کہ : میں تمہیں یہ غلام ایک ہزار کا اس شرط پر فروخت کرتا ہوں کہ تم مجھے اپنا گھر اتنے میں فروخت کرو۔ پھر امام شوکانی نے فرمایا کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت ((نَھَی النَّبِیُّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم عَنْ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ)) (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیع میں دو بیعوں سے منع فرمایا)کی تفسیر بنتی ہے پہلی روایت کی نہیں ۔ کیونکہ یہ الفاظ ’’ فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا‘‘اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اس نے ایک چیز کی دو بیعیں کیں ۔ ایک کم قیمت پر ، دوسری زیادہ پر۔ [1] تحفۃ الاحوذی؍شرح جامع الترمذی لأبی العلاء المبارکفوری أبواب البیوع؍باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ:۴؍۳۵۹