کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 573
اور نقد اتنے کی ہے‘‘ درست نہیں ۔‘‘ امام شوکانی نیل الاوطار میں فرماتے ہیں : (( قَوْلُہٗ : مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فَسَّرَہٗ سِمَاکٌ بِمَا روَاہُ المُصَنَّفْ عَن أَحْمَدُ عَنْہُ وَقَدْ وَافقَہٗ عَلیٰ مثْل ذٰلِکَ الشَّافِعیُّ ، فَقَال: بِأَنْ یَّقُوْلَ : بِعْتُکَ بِأَلْفٍ نَقْداً أَوْ أَلْفَیْنِ إلیٰ سَنَۃٍ ، فَخُذْ أَیَّھُمَا شِئْتَ أَنْتَ وَشِئْتَ اَنَا ، وَنَقَلَ ابْنُ الرَّفْعَۃَ عنِ الْقَاضِیْ أَنَّ الْمَسْأَلَۃَ مَفْرُوضَۃٌ عَلیٰ أَنَہٗ قَبِل عَلیٰ الْاَبْھَام أَمَّا لَوْ قَالَ قُلْتُ بِأَلْفٍ نَقْداً ، أَوْ بِأَلْفِیْنَ بِالنَّسِیْئَۃِ صَحَّ ذٰلِکَ ، وَقَدْ فَسَّرَ ذٰلِکَ الشَّافِعِیُّ بِتَفْسِیْرٍ آخَرَ ، فَقَالَ: ھُوَ أَنْ یَّقُوْل: بِعْتُکَ ذَالْعَبْدُ بِأَلْفٍ عَلیٰ أَنَّ تَبیْعَنِیْ دَارَکَ بِکَذَا ۔ أَیْ إِذجا وَجَبَ لَکَ عِنْدِیْ وَجَبَ لِیْ عِنْدَکَ وَھٰذَا یَصْلُحُ تَفْسِیْرًا لروَایَۃ الأُخریٰ مِنْ حَدِیْث أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، لَا لِلْأُولیٰ فَإِنَّ قَوْلَہٗ فَلَہُ أَوْ کَسُھُمَا یَدُلُّ عَلیٰ أَنَّہُ بَاعَ الشَّیْئُ الْوَاحِدَ بیْعَتَیْنِ بَیْعَۃٌ بِأَقَلَ وَبَیْعَۃ بِأَکْثَرَ : وَقِیْلَ فِیْ تَفْسِیْرٍ ذٰلِکَ : ھُوَ أَنْ یُّسْلِفَہُ دِیْنَارًا فِیْ قَفِیْز حِنْطَۃٌإلیٰ شَھْرٍ ، فَلَمَّا حِلَّ الْاَجْلُ ، وَطالبہ بالحنطۃ قال: یعنی القَفِیزَ الَّذِیْ لَکَ عَلَیَّ اِلیٰ شَھْرِیْنَ بِقَفِیْزَیْنِ۔ فَصَارَ ذٰلِکَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃِ : لِأَنَ الْبَیْعَ الثَّانِیْ قَدْ دَخَلَ عَلَی الاوّل فیرُدُّ إِلَیْہِ أَوْ کسَھُمَا وَھُوَ الْاَوَّلُ ، کَذَا فِیْ شَرْحِ السُّنَنِ لِاَبْنِ رُسْلَان)) (کتاب البیوع؍باب بیعتین فی بیعۃ:۵؍۲۴۹) ’’حدیث مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ کی تفسیر سماک نے اسی طرح کی ہے جس طرح مصنف نے امام احمد کے واسطے سے سماک سے روایت کیاہے۔ امام شافعی کا قول بھی ہے کہ موافق ہی ہے ، امام شافعی فرماتے ہیں کہ حدیث کا مطلب ہے کہ آدمی مثال کے طور پر کہے : نقد ہزار کی اور ایک سال تک ادائیگی کردو تو دو ہزار کی ، جو آپ چاہتے ہیں وہ لے لیں اور جو میں چاہوں ۔ ابن رفعہ نے قاضی سے نقل کیا ہے کہ اس صور ت میں جب بات مبہم اور غیر واضح ہو لیکن اگر وضاحت ہو جائے اور کہہ دے کہ نقد ہزار کی مجھے منظور ہے یا ادھار دو ہزار کی مجھے قبول ہے تو ایسا کرنا صحیح ہے۔ اس کی وضاحت امام شافعی نے اور طرح بھی کی ہے کہ وہ کہے: یہ غلام میں تمہیں ایک ہزار میں فروخت کرتا ہوں ، بشرطیکہ تو اپنا گھر مجھے اتنی اتنی قیمت پر بیچے۔ یعنی جب غلام تیرا ہو جائے گا تو گھر میرا ہو