کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 572
درھم) یا( بیس درھم) کہے اور سودا ہو جائے اور بائع و مشتری جدا جدا ہو جائیں تو پھر کوئی حرج نہیں ۔‘‘ محدث البانی رحمہ اللہ تعالیٰ ارواء الغلیل میں فرماتے ہیں : (( وَقَدْ مَضیٰ قَرِیْبًا تَفْسِیْرُہٗ بِمَا ذُکِرَ عَنْ سِمَاکٍ وَکَذَا فَسَّرۃٗ عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَائٍ فَقَالَ: یَعْنِیْ یَقُوْلُ : ھُوَ لَکَ بِنَقْدٍ بِعَشْرَۃٍ ، وَبِنَسِیئَۃٍ بِعِشْرِیْنَ))(۵؍۱۵۱) ’’پیچھے قریب ہی اس کی تفسیر میں سماک کا قول ذکر ہوا ہے ، اسی طرح عبدالوھاب بن عطاء نے اس کی تشریح کرتے ہوئے کہا: ’’ یعنی آدمی کہے: نقد تیرے لیے دس میں ہے اور اُدھار بیس میں ۔‘‘ عبدالرزاق رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب ’’مصنف ‘‘ میں لکھتے ہیں : (( قَالَ الثَّورِیُّ إِذَا قُلْتَ: أَبِیْعُکَ بِالنَّقْدِ بِکَذَا وَبِالنَّسِیْئَۃِ بِکَذَا وَکَذَا فَذَھَبَ بِہِ الْمُشْتَرِیُّ فَھُوَ بِالْخِیَارِ فِی الْبَیْعَیْنِ مَالَمْ یَکُنْ وَقَعَ بَیْعٌ عَلیٰ أَحَدِھِمَا فَإِنْ وَقَعَ الْبَیْعُ ھٰکَذَا فَھٰذَا مَکْرُوْہٌ ، وَھُوَ بَیْعَتَانِ فِیْ بَیْعَۃٍ ، وَھُوَ مَرْدُوْدٌ وَھُوَ الَّذِیْ یُنْھیٰ عَنْہُ ، فَإِذَا وَجَدْتَّ مَتَاعَکَ بِعَیْنِہٖ أَخَذْتَہٗ ، وَاِنْ کَانَ قَد اسْتَھْلَکَ فَلَکَ أَوْکَسُ الْثَمَنَیْنِ ، وَأَبْعَدُ الْأَجْلَیْنِ)) (۸؍۱۳۸۔۱۴۶۳۲) ’’امام ثوری رحمہ اللہ نے کہا: جب آپ کہیں کہ ’’نقد آپ کو اتنے میں دوں گا اور اُدھار اتنے میں ‘‘ کوئی ایک صورت طے ہونے کے بغیر گاہک اگر وہ چیز لے جائے تو اسے اختیار ہے دو قیمتوں میں سے جو مرضی ادا کر دے لیکن اگر اس طرح بیع طے ہو جائے تو ایسی بیع مکروہ ہے اور ایک بیع میں دو بیعیں ہیں جو کہ مردود اور ممنوع ہے ، اگر آپ کو اپنا سامان بعینہ مل جائے تو اسے لے لو اور اگر خراب ہو چکا ہو تو دو قیمتوں میں جو کم ہے وہ لے لیں اور ادائیگی کے دو اوقات میں سے زیادہ تاخیر والا وقت ہے اس وقت وصول کریں گے۔‘‘ (( وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاق: أَخْبَرَنَا إِسْرَائِیْلُ قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاکُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ابْنِ عَبْدَ ا للّٰه عَنْ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: لَا تَصْلُحُ الْصَّفْقَتَانِ فِی الصَّفْقَۃِ أَنْ یَّقُوْلَ : ھُوَ بِالنَّسِیْئَۃِ بِکَذَا وَکَذَا ، وَبِالنَّقْدِ بِکَذَا وَکَذَا)) (۸؍۱۳۸) ’’ عبدالرزاق فرماتے ہیں : ہمیں اسرائیل نے خبر دی ، اس نے کہا ، ہمیں سماک بن حرب نے بیان کیا از عبدالرحمن بن عبداللہ کو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک چیز کے دو سودے کرنا کہ ’’ادھار اتنے کی