کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 571
2۔بعض نے کہا ہے : اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی چیز دو مرتبہ فروخت ہوتی ہے جیسے: ایک آدمی ایک مہینہ اُدھار پر کوئی چیز بیچتا ہے ، جب ادائیگی کا وقت آتا ہے ، خریدار کے پاس قیمت موجود نہیں ہوتی ، فروخت کنندہ اس پر اور پیسے چڑھا دیتا ہے ، اسے دوبارہ نئے سرے سے نئی قیمت پر بیچتا ہے اور ادائیگی کی پہلی رقم اس کے ذمہ بدستور قائم رہتی ہے۔ 3۔بعض کہتے ہیں : حدیث کا معنی یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی کو کوئی چیز فروخت کرے اور ساتھ شرط لگائے کہ خریدار بھی اسے کوئی دوسری چیز فروخت کرے۔ جواب: میں کہتا ہوں اس کے کئی جواب ہیں : جواب نمبر ۱:.....یہ حدیث: ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا))صرف ایک ، دو تین یا چار ، پانچ کو شامل نہیں بلکہ ہر اس بیع کو شامل ہے جس میں دو بیعیں کی جائیں ۔ اور یہ بالکل واضح بات ہے جو کسی اہل علم سے مخفی نہیں ، لہٰذا صاحب مضمون کا یہ کہنا کہ یہ حدیث ’’قسطوں کی بیع ( جس میں اضافی رقم دینا پڑتی ہے) پر منطبق نہیں ہوتی ‘‘ صحیح نہیں ، کیونکہ اس بات کی بنیاد اس نظریہ اور فکر پر ہے کہ حدیث صرف مذکورہ تین معانی پر ہی منحصر ہے ، حالانکہ حدیث میں کوئی قصر ہے نہ حصر ، جیسا کہ آپ معلوم کر چکے ہیں ۔ جواب نمبر ۲:.....صاحب مضمون نے حدیث کو تین معانی میں بند کر کے رکھ دیا ہے ، یہ بات کسی اہل علم سے ثابت نہیں ،ہاں بعض نے اس سے صرف ’’بیع عینہ ‘‘ مراد لی ہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالیٰ آرہا ہے ۔ بلکہ کئی علما نے ’’کوئی چیز نقد کم قیمت پر اور اُدھار زیادہ قیمت پر بیچنے ‘‘ کو ہی ایک بیع میں دو بیعیں قرار دیا ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب جامع ترمذی میں فرماتے ہیں : ((وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَھْلِ الْعِلْمِ قَالُوْا : بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ أَنْ یَّقُوْلَ: أَبِیْعُکَ ھٰذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشْرَۃٍ ، وَبِنَسِیْئَۃٍ بِعِشْرِیْنَ وَلَا یُفَارِقُہٗ عَلیٰ أَحَدِ الْبَیْعَیْنِ فَاِذَا فَارَقَہٗ عَلیٰ أَحَدَھَمَا فَلَا بَأسَ إِذَا کَانَتِ الْعُقْدَۃُ عَلیٰ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا)) [1] ’’ بعض اہل علم نے وضاحت کی ہے کہ ایک بیع میں دو بیعیں یہ ہیں کہ آدمی ایک ہی مجلس میں کہے میں یہ کپڑا آپ کو نقد دس درھم میں دیتا ہوں اور ادھار بیس درھم میں ، لیکن اگر صرف ایک ہی قیمت ( دس [1] ابواب البیوع عن رسول اللّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم باب ما جاء فی النھی عن بیعتین فی بیعۃ۔