کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 569
زیادہ لیے جاتے ہیں ، اس کا جواب دیتے ہوئے صاحب مضمون کہتے ہیں : ’’ یہ استدلال صحیح نہیں ، اس لیے کہ بیع شروع سے ہی معین قیمت پر ہوئی ہے کہ اتنے عرصے میں ادائیگی ہو گی اور اتنا ریٹ ہے۔ دوسرے ریٹ کی بات ہی نہیں ہوئی۔ اور ایسا جب فریقین کی رضا مندی سے طے ہو جائے تو جائز ہے۔‘‘ جواب: ..... اس کے کئی جواب ہیں : (۱)صاحب مضمون’’پہلے خود ‘‘ قسطوں کی بیع‘‘ کی اہم خصوصیات بیان کر چکے ہیں کہ: (ا)(۱)سامان( قابل فروخت) فوری دیا جائے گا۔(۲) قیمت مؤجل ہو گی اور قسطوں میں دی جائے گی۔ (۳)قیمت میں اضافہ تاخیر کا عوض ہے۔ (ب) پھر یہ بھی کہہ کر آئے ہیں کہ تیسری بات ( قیمت میں اضافہ تاخیر کی نظیر ہے) میں اختلاف ہے۔ (ج) پھر کہتے ہیں کہ ’’ قیمت میں اضافہ تاخیر کی نظیر ہے۔‘‘ کوجائز قرار دینے والوں کی دلیل یہی ہے کہ قیمت میں اضافہ تاخیر کی نظیر ہے۔ آپ کو یہ معلوم ہو چکا ہے کہ صاحب مضمون نے اپنے ان تینوں اقوال میں ’’قسطوں کی بیع میں ‘‘ قیمت میں اضافہ کو تاخیر اور ادائیگی کا عوض و بدل ٹھہرایا ہے لیکن اب کہہ رہے ہیں کہ : ’’قیمت جو طے ہو رہی ہے وہ سامان ( قابل فروخت) کی پوری قیمت ہے۔‘‘ ان کے پچھلے تین اقوال اور اس قول میں واضح تضاد ہے ، کیونکہ جب قیمت سامان کی پوری قیمت بن رہی ہو تو پھر ’’قیمت میں اضافہ تاخیر کا عوض و بدل ہے ‘‘باقی نہیں رہتا۔ اور جب ’’ قیمت میں اضافہ تاخیر کا عوض و بدل ہو‘‘ سامان فروخت کی قیمت اس کی پوری قیمت نہیں ہو سکتی۔ یہ بالکل واضح بات ہے جسے ذہین اور کند ذہن سبھی جانتے ہیں ۔ 2۔دوسرا جواب یہ ہے کہ جب ساری قیمت جو قسطوں میں قابل ادا ہے سامان کی کل قیمت ہے اور ادائیگی کی تاخیر کی وجہ سے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا تو پھر تو یہ بیع ’’قسطوں کی بیع‘‘ رہتی ہی نہیں ۔ (کیونکہ قسطوں کی بیع میں تاخیر ادائیگی کی وجہ سے پیسے زیادہ دینے پڑتے ہیں ) اور جب یہ صورت ’’ قسطوں کی بیع ‘‘ والی بنتی ہی نہیں تو صاحب مضمون کا یہ جواب اسے سود کہنے والوں کے لیے جواب نہیں بنتا۔ 3۔اگر قسطوں میں ادا ہونے والی رقم سامانِ فروخت کی کل قیمت ہے اور تاخیر ادائیگی کی وجہ سے ریٹ نہیں