کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 567
رضا مندی کی وجہ سے کیسے جائز ہو گئی؟ صاحب مضمون بھی اس طرح کی خریدو فروخت اور تجارت کو اس بناء پر جائز قرار نہیں دیتے کہ یہ ان دلائل کے عموم کے تحت داخل ہیں ، اس لیے کہ شریعت نے ان کو اور اس طرح کی دوسری بیوع اور تجارات کو حرام قرار دیا ہے۔ اور قسطوں کی بیع بھی انہی بیوع میں سے ہے جنہیں شریعت نے حرام کیا ہے کیونکہ اس میں زیادہ منافع صرف تاخیر کی وجہ سے لیا جاتا ہے۔ اور صرف تاخیر وقت کا منافع شریعت میں جائز نہیں ، جس طرح سود( قرض کے سود اور بیع کے سود) کی حرمت کے بہت سے دلائل سے سمجھ آتا ہے ۔ پھر قسطوں کی بیع ان بیوع سے ہے جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان صادق آتاہے: (( مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) (’’جس نے ایک بیع ( چیز فروخت) کے دو بھاؤ لگائے تو اس کے لیے کم ریٹ اور بھاؤ لینا جائز ہے اور اگر زیادہ لیا تو سود ہو گا۔‘‘) یہ مسئلہ آگے آ رہا ہے۔ اِنْ شَآئَ ا للّٰه تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ لہٰذا ان تین اور ان کے علاوہ دوسرے دلائل سے قسطوں کی بیع کے جواز پر استدلال کرنا درست نہیں ۔ چوتھی دلیل اس لیے نہیں بنتی کہ یہاں قسطوں کی بیع کی ممانعت کی مضبوط دلیل موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ قسطوں کی بیع کا انحصار اس پر ہے کہ اس میں صرف تاخیر اور دیر سے ادائیگی کرنے پر منافع لیا جاتا ہے اور یہ ایسی بیوع سے ہے جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول: ((مَنْ بَاعَ بَیْعَتَیْنِ فِیْ بَیْعَۃٍ فَلَہٗ أَوْکَسُھُمَا أَوِ الرِّبَا)) صادق آتا ہے۔ پانچویں پیش کردہ دلیل اس لیے صحیح نہیں کہ اس سے شریعت میں ہر حرام کردہ چیز اس وجہ سے جائز اور حلال ٹھہرے گی کہ لوگوں کو اس کی ضرورت ہے مثلاً: کسی آدمی کو ایک چیز کی ضرورت ہو لیکن خریدنے کے لیے پیسے نقد موجود نہیں ، وہ کسی آدمی سے پیسے لے کر چیز خرید لے اور بعد میں اسے پیسے واپس کر ے تو اضافی رقم بھی ادا کرے اور یہ معاملہ اور لین دین سود کے باوجود حلال ٹھہرے ؟ نہیں ۔ ہر گز نہیں ! لہٰذا اصل یہی ہے کہ جو چیز شریعت نے حرام کی ہے وہ حرام ہی ہے لوگوں کو اس کی ضرورت پڑے یا نہ پڑے ۔ چیز خریدنے کے لیے نقد قیمت ملے یا نہ ملے۔ اور قسطوں کی بیع حرام بیوع سے ہے ، یہ رفع حرج اور اردۂ یسر کے قاعدہ ( کہ شریعت میں تنگی نہیں آسانی ہے) کے زمرے میں نہیں آتی ۔ جن کے پاس نقد قیمت موجود ہے اور جن کے پاس موجود نہیں سب پر لازم ہے کہ حلال کو لازم پکڑیں اور حرام سے اجتناب کریں ، جو آدمی حلال لینا چاہے وہ حرام سے بچ جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ یَّسْتَعِفَّ یُعِفَّہُ ا للّٰه ، وَمَنْ