کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 566
جائز نہیں مگر اس کی خوشنودی سے) (مستدرک علی الصحیحین للحاکم کتاب العلم:۳۱۸۔ سنن دار قطنی کتاب البیوع:۹۲) سے بھی قسطوں کی بیع کی اجازت ہے۔ ۴۔اصل میں تمام معاملات ، لین دین جائز ہیں ، جب تک کوئی منع کی دلیل وارد نہ ہو ، اور جو آدمی کہتا ہے کہ قسطوں کی بیع جائز نہیں اس کے پاس کوئی ایسی دلیل موجود نہیں جس سے قسطوں کی بیع کی ممانعت نکلتی ہو۔ ۵۔لوگوں کو ایک چیز کی ضرورت ہو اور نقد پیسے نہ ہوں تو آسان قسطوں پر چیز کو اس کے ریٹ سے مہنگا خرید لینے میں ان کو کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ (اللہ تعالیٰ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالی۔)[الحج:۷۸]اور فرماتا ہے: ﴿یُرِیْدُ ا للّٰه بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ﴾ (اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ تنگی نہیں چاہتا۔) [البقرۃ : ۱۸۶] ۶۔اس وقت ایسے محسنوں کی کمی ہے جو اپنے ضرورت مند بھائیوں کو قرضِ حسنہ دے سکیں ۔ ۷۔اس سے سود کا دروازہ بند ہو گا کیونکہ ایک آدمی کو جب ایک چیز کی ضرورت ہو اور اس کے پاس اسے خریدنے کے لیے پیسے نہ ہوں ، نہ ہی کوئی قسطوں پر بیچنے کے لیے تیار ہو تو اُسے وہ چیز خریدنے کے لیے سود پر پیسے لینے پڑیں گے۔ ۸۔قیمت میں اضافہ کا جواز تا خیر کا بدل و معاوضہ ہے۔ دلائل کا تجزیہ: ان آٹھ دلائل میں کوئی دلیل بھی ایسی نہیں ، نہ کوئی اور دلیل ایسی ہے جو صاحب مضمون کے دعویٰ ’’قسطوں کی بیع کے جواز‘‘ کو ثابت کر سکے۔ ۱،۲،۳ ( پہلے تین دلائل تو اس لیے دلیل نہیں بنتے کہ غیر شرعی خریدو فروخت اور تجارتیں سرے سے ان تینوں دلائل کے عموم میں داخل ہی نہیں ، اور اگر داخل ہیں تو شریعت نے ان عمومی دلائل سے نکال کر ان کا بطورِ خاص الگ حکم بتایا ہے ۔ ورنہ لازم آئے گا کہ ان کے ساتھ (۱)شراب اور خنزیر کی خریدو فروخت (ب)گندم کی خریدو فروخت برابر وزن سے ، ایک جانب سے نقد اور دوسری جانب سے اُدھار۔ (ج)دونوں جانب سے گندم نقد ہو لیکن ایک فریق زیادہ لے۔(د)ایک فریق کم لے اور دوسرا زائد لے جبکہ ایک اُدھار کرے۔ تو یہ اور اس طرح دوسری بیوع اور تجارتیں اگر رضا مندی سے ہو جائیں تو جائز ہونی چاہئیں ؟ لیکن ظاہر ہے کہ سود ہیں تو قسطوں کی بیع بھی صرف