کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 564
کے سوا یہودی کے اس اقدام کے لیے اور کوئی دوسرا محرک نظر نہیں آتا تھا۔ آخر میں ہم شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ کا ایک فتویٰ درج کیے دیتے ہیں کیونکہ اس فتویٰ سے مزید کئی پہلو روشن ہوتے ہیں ۔ شیخ صاحب سے کسی نے بایں الفاظ سوال کیا : ’’بیع میں اگر نقد کی نسبت اُدھار یا قسطوں پر قیمت زیادہ ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ ‘‘ اس پر آپ نے حسب ذیل جواب دیا: ’’ معلوم مدت والی بیع جائز ہے جبکہ اس بیع میں معتبر شرائط پائی جاتی ہوں ، اس طرح قیمت کی قسطیں کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں جبکہ یہ اقساط معروف اور مدت معلوم پر مشتمل ہوں چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’ اے ایمان والو! جب تم ایک مقررہ مدت کے اُدھار پر لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔‘‘ (البقرۃ:۲۸۲) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ؛’’جب کوئی شخص کسی چیز میں بیع سلم کرے تو ناپ تول اور مدت معین کر کے کر لے۔‘‘(صحیح بخاری) [1] حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے متعلق احادیث میں ہے کہ انہوں نے خود کو اپنے مالکوں سے نواوقیہ چاندی میں خرید لیاکہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی ادا کر نا ہوگی۔ (صحیح بخاری)… [2] یہی قسطوں والی بیع ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بیع کو معیوب خیال نہیں کیا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اس سے منع نہیں فرمایا اور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ قسطوں میں قیمت نقد کے برابر ہو یا مدت کی وجہ سے زیادہ ہو۔ (فتاویٰ شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ :۱۴۲) ایک اور فتویٰ میں آپ نے اس روایت سے بھی اس کے جواز پر استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا کہ ایک لشکر ترتیب دیں اور اس کے لیے لوگوں سے حاضر اونٹ اس شرط پر خرید لیں کہ جب زکوٰۃ کے اونٹ آئیں گے تو ایک اونٹ کے عوض دو اونٹ دیے جائیں گے۔ (مستدرک حاکم و بیہقی) [3] ان قرائن و شواہد کی بنا ء پر ہم کہتے ہیں کہ نقد اور اُدھار کی قیمت میں فرق کیا جا سکتا ہے اور اُدھار کی اقساط بنانے [1] بخاری؍کتاب السلم؍باب السلم فی کیل معلوم۔ مسلم؍کتاب البیوع؍باب السلم۔ ترمذی؍کتاب البیوع؍باب ما جاء فی السلف فی الطعام والتمر۔ ابن ماجہ؍کتاب التجارات؍باب السلف فی کیل معلوم و وزن معلوم الی أجل معلوم۔ [2] بخاری؍کتاب المکاتب ؍باب استعانۃ المکاتب وسؤالہ الناس۔ [3] ابو داؤد؍کتاب البیوع؍باب فی الرخصۃ حدیث ضعیف ہے۔ وضاحت ص:۵۱۶ پر ملاحظہ فرمائیں ۔