کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 563
اس تفصیل سے یہ معلوم ہوا کہ عقد سلم میں قیمت کی پیشگی ادائیگی اور خرید کردہ چیز کی تاخیر سے اس چیز کی قیمت متاثر ہوتی ہے۔ عقد سلم میں ادھار شرط ہے جیساکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ا س پر ایک عنوان بھی قائم کیا ہے اگر اس میں اُدھار نہ ہو تو عقد سلم کی حقیقت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا جب بیع آجل بعاجل میں اُدھار کی وجہ سے قیمت میں تفاوت کا آنا ممنوع نہیں تو زیر نظر مسئلہ جو دراصل بیع عاجل بآجل ہے ۔ اس میں قیمت کا تفاوت کیوں ممنوع قرار دیا جائے۔ بلکہ نقد اور اُدھار کی وجہ سے خرید کردہ چیز اور اس کی قیمت کا متاثر ہو کر کم یا زیادہ ہونا غیر مشروع نہیں اور نہ ہی سود کے زمرے میں آتا ہے۔ (فتدبر) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الشحم نامی ایک یہودی سے جو اُدھار پر لیے اور اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھی۔ (صحیح بخاری/کتاب البیوع/ باب شراء النبی بالنسیئۃ) ہم یہودی کے اس معاملہ کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ایک متعصب دشمن اسلام سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ اور اس کے بعد روزمرہ ضروریات میں کام آنے وال چیز زرہ کو رہن رکھنے کے پس پردہ واقعات کا جائزہ لینے سے جو صورت سامنے آتی ہے اس میں زیرِ نظر مسئلہ کے جواز پر قوی شواہد موجود ہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرہ میں جب کسی چیز کی مانگ زیادہ ہو تو اس کے خریدار بھی بڑھ جاتے ہیں اور جب خریدار زیادہ ہوں تو اس چیز کے نقد فروخت ہونے کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں ایسے مواقع پر بائع اُدھار کی نسبت نقد کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ ہاں اگر اسے اُدھار فروخت کرنے میں مالی منفعت زیادہ نظر آئے تو پھر اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معاملہ کے وقت مدینہ منورہ کی معاشی حالت یہ تھی کہ غلہ کی ضرورت بہت زیادہ تھی عموماً لوگوں کو بیرونی قافلوں کے آنے کا انتظار کرنا پڑتا اور جب کبھی قافلہ آنے کی خوشخبری سنائی جاتی تو فاقہ زدہ معاشرہ کی حالت بسا اوقات غیر ہو جاتی۔چنانچہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1]خطبہ جمعہ دے رہے تھے کہ قافلہ آنے کی خبر ملی ، خبر سنتے ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کثیر تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ کی حالت میں اکیلے چھوڑ کر قافلہ کی طرف دوڑ پڑی او ر اس وقت خرید و فروخت کی مارکیٹ پر یہودیوں کا قبضہ تھا۔ وہ قافلہ سے غلہ خرید کر بعدمیں اپنی مرضی کی قیمت پر اسے فروخت کرتے تھے۔ ایسی ضرورت کی اشیاء میں انہیں نقد کا گاہک بسہولت میسر تھا۔ یہ لوگ نقد کی بجائے اُدھار کو ترجیح کسی شوق یا جذبہ ہمدردی کی وجہ سے نہ دیتے تھے بلکہ مالی منفعت کی خاطر اُدھار کا معاملہ کرتے تھے ۔ ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُدھار کے معاملہ سے غالب گمان یہی ہے کہ نقد کی نسبت سے اُدھار کی قیمت کا تفاوت لازمی طور پر اختیار کیا گیا ہو گا ، مالی منفعت اور زیادہ قیمت کی وصولی [1] بخاری؍کتاب التفسیرسورۃ الجمعۃ؍باب واذارأو تجارۃ او لھوا ۔مسلم؍کتاب الجمعۃ؍باب فی قولہ تعالیٰ واذآ رأوا تجارۃ اولھوا ۔ ترمذی؍کتاب التفسیر سورۃ الجمعۃ۔