کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 562
زیادتی نہیں ہو گی۔ لیکن اگر بائع معاملہ طے ہونے کے بعد ایک ماہ کی تاخیر پر دو ، پھر دو ماہ کی تاخیر پر چار اور اسی طرح تین ماہ کی تاخیر پر چھ روپے اصل طے شدہ رقم سے زیادہ وصول کرے تو یہ سود ہے جو کسی صورت میں جائز نہیں ہے۔ قارئین کرام! جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ زیرِ نظر مسئلہ یعنی نقد اور اُدھار کے بھاؤ میں کمی بیشی کرنا شرعاً جائز ہے۔ کیونکہ یہ اُدھار خرید و فروخت کی ہی ایک صورت ہے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ اور اس کے متعلق صریح نصوص موجود ہیں ۔ تاہم اُدھار کی بناء پر قیمت زیادہ وصول کرنا فکر و نظر اور غورو خوض کی متقاضی ہے کیونکہ خریدو فروخت کی بعض صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں اُدھار جائز نہیں ہے جیسا کہ سونے کے بدلے سونا یا گندم کے عوض گندم لینا اسی طرح بعض صورتیں ایسی ہیں کہ کسی طرف سے اضافہ حرام ہے جیسا کہ چاندی کے بدلے چاندی کا کاروبار کرنا ، نیز اُدھار کی وجہ سے قیمت بڑھا دینا کسی صریح نص سے ثابت نہیں ہے ۔ البتہ قرائن و شواہد اور استنباط و استخراج سے اس کا جواز ملتا ہے جس کی تفصیل حسب ذیل ہے: ’’ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’ایمان والو! جب تم ایک وقت مقررہ تک اُدھار کا لین دین کرو تو اسے لکھ لیا کرو‘‘ [البقرۃ:۲۸۵] اس آیت کو آیت مداینہ کہا جاتا ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے مقررہ مدت تک کیے ہوئے عقد سلم کے معاملہ کو اپنی کتاب میں آیت مداینہ کی رُو سے حلال قرار دے کر اس کی اجازت دی ہے۔‘‘ (مستدرک حاکم:۲/۲۸۶) عقد سلم کی تعریف محدثین اور فقہاء نے بایں الفاظ کی ہے:’’ بیع اجل بعاجل‘‘ نقد پیشگی قیمت دے کر آئندہ خرید کر دہ چیز وصول کرنے کا عقد ، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کوئی مشتری مقرر شرائط کی رعایت کرتے ہوئے کسی شخص کو ایک ہزار روپیہ دے اور یہ معاہدہ کرے کہ تم یہ رقم پیشگی وصول کر کے فلاں وقت میں مجھے اتنی گندم اس بھاؤ سے دینے کے پابند ہو اور بائع بھی مقرر شرائط کا لحاظ رکھتے ہوئے رقم وصول کر کے معاہدہ کرے تو اسے عقد سلم کہا جاتا ہے ، اس عقد کی ماہیت پر غور کرنے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مشتری وقتی طور پر یکمشت زر سلم کی ادائیگی پر تیار ہو کر مہینوں تک خرید کردہ چیز کی وصولی کا انتظار کرتا ہے ایسا کیوں ہے؟ کیا اس میں فریقِ ثانی کی خیر خواہی اور ہمدردی مقصود ہے ؟ ہر گز نہیں اگر ایسی بات ہوتی تو اسے قرض حسنہ دے کر مشکل کے وقت اس کے کام آتا۔ متعدد شرائط کی رعایت کر کے پیشگی رقم دے کر مہینوں تک خرید کردہ چیز کی وصولی کا انتظار کرنے سے اس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے مقررہ وقت پر خرید کردہ چیز ارزاں قیمت پر میسر ہو کیونکہ عقد سلم میں خرید کردہ چیز بائع کو بازار کی قیمت سے سستی پڑتی ہے۔