کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 560
حالات کے اختلاف سے مختلف ہو تی ہے اگر کوئی بائع اپنی چیز کی قیمت ایک حالت میں کچھ مقرر کرے اوردوسری حالت میں کچھ مقرر کر دے تو شریعت نے اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی ، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنی چیز نقد آٹھ روپے میں اور اُدھار دس روپے میں فروخت کرتا ہے تو اس شخص کے لیے بالاتفاق یہ جائز ہے کہ وہ اسی چیز کو نقد دس روپے میں فروخت کر دے بشرطیکہ اس میں ضرر یا غرر نہ ہو اور جب دس روپے میں نقد فروخت کرنا جائز ہے اور اُدھار دس روپے میں فروخت کرنا کیوں ناجائز ہوا؟ (فتدبر) اب ہم قارئین کو اس حقیقت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ زیر نظر مسئلہ میں نقد کی نسبت سے اُدھار قیمت میں یہ تفاوت کیا اُدھار کا عوض ہے یا اُدھار کی وجہ سے ہے؟ ان دونوں کے درمیان مابہ الامتیاز کیا ہے تاکہ بذریعہ نص حرام اور ناجائز سود سے اس کا فرق ہو سکے ، واضح رہے کہ اُدھار کی وجہ سے قیمت میں یہ تفاوت اُدھار کا معاوضہ نہیں ہے کیونکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس اُدھار کی قیمت میں جو کچھ قیمت تو بیع کی ہو اور کچھ قیمت اس اجل کی ہو جو عاقدین نے قیمت کی ادائیگی کے لیے طے کی ہے۔ بلکہ معاشرتی حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اُداھار میں جو سہولت میسر آتی ہے اس کی وجہ سے کچھ اضافہ ہوا ہے ۔ ہم آسانی کے پیش نظر اسے یوں تعبیر کر تے ہیں : ان الزیادۃ ھٰھنا لاجل لا لعوض الاجل‘‘ یہاں پر قیمت میں اضافہ اُدھار کی وجہ سے ہے اُدھار کے عوض میں نہیں ہے۔قرآن و حدیث میں اس قسم کے متعدد نظائر پائے جاتے ہیں جس میں اُدھار کی وجہ سے قیمت میں زیادتی آتی ہے جنہیں ہم آئندہ بیان کریں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اجل ایک وصف ہے اور وصف کا معاوضہ نہیں ہوتا لیکن وصف کے مرغوب ہونے کی وجہ سے قیمت بڑھ سکتی ہے اور وصف کے ناپسند ہونے کی وجہ سے قیمت کم ہو جاتی ہے اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو صاع کھجور کے عوض ایک صاع کھجور لینے کو ناجائز ٹھہرایا ہے [1]آپ نے اس کے متعلق مزید تاکید کی ہے کہ عمدہ اور ردّی کھجور کا بھی مقابلہ ہو تو برابر برابر لینا ہو گا۔[2] اس کے عمدہ ہونے کی صورت میں اضافہ نہ دے سکتے ہیں اور نہ ہی لے سکتے ہیں ۔ بہترین کھجور کے ایک سیر کے بدلہ میں معمولی کھجور کے دو سیر دینے سے منع فرمادیا کیونکہ اس میں سیر کے بدلے میں آجاتا ہے اور دوسرا سیر اس کے وصف جو دت (عمدگی) کے عوض میں لیا جاتا ہے جو کہ ناجائز ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تدبیر یوں فرمائی کہ ردی کھجور کو کم قیمت پر فروخت کر دو پھر حاصل ہونے والے زر ثمن سے بہتر کھجور کو زیادہ قیمت سے خرید لو ۔[3] اس معاملہ [1] مسلم؍کتاب البیوع؍باب بیع الطعام مثلاً بمثل [2] مسلم؍کتاب البیوع؍باب بیع الطعام مثلاً بمثل [3] مسلم؍کتاب البیوع؍باب بیع الطعام مثلاً بمثل