کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 56
اَلْحَکِیْمُ: ہر کام میں کمال حکمت و دانائی کا ملکہ رکھنے والی ذات: مخلوقات کی صورتوں پر ذرا غور تو کرو ، تم اس نتیجے پر پہنچو گے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہر جنس کو ایک ہی طرح عمدگی سے ساخت کیا ہے۔ انسان کی مثال سامنے رکھو۔ آنکھیں چہرے پر سجائی ہیں ، ناک کو ان دونوں کے درمیان میں رکھا ہے،ہاتھوں کو دونوں طرف پہلو میں لگایا ہے، پاؤں نیچے ہیں ۔ کسی انسان کی آنکھ گھٹنے پر لگی ہو یا کسی کا ہاتھ سر کے اوپر اگا ہوا ہو، ایسا کبھی نہیں دیکھو گے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سب کچھ کسی داناذات کی کاریگری ہے، جس نے انسان کو بہت عمدہ طریقے سے بنایا ۔ ہر طرح کے حیوانات اور نباتات کا بھی یہی معاملہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ایک قسم کی مخلوق کو ایک ہی شکل اور ایک ہی انداز میں پیدا فرمایا ہے۔ جس ذات نے اتنی کاریگری سے یہ شکلیں بنائی ہیں ، اس کا اپنا دعویٰ ہے: ﴿ھُوَالَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فیِ الْأَرْحَامِ کَیْفَ یَشَآ ئُ لَآ إِلٰہَ إِلاَّ ھُوَ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ o﴾ [آل عمران:۶] ’’وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں جیسی چاہتا ہے بناتا ہے، اس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔‘‘ جس ہوا میں تم سانس لیتے ہو اس پر ذرا غور کرو۔ تم صاف ستھری ہوا ( آکسیجن)اندر لے جاتے ہو اور گندی ہوا ( کاربن ڈائی آکسائیڈ) باہر نکالتے ہو۔ اس کے باوجود صاف ستھری ہوا کی مقدا کم نہیں ہوتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نباتات کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ صاف ستھری ہوا ( آکسیجن) کی کمی پوری کرتے رہیں ، تا کہ ایک مقرر مقدار میں صاف ستھری ہوا فراہم ہوتی رہے اور اس نظام میں کمی بیشی نہ ہو۔ یہ اس بات کی شہادت کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ سارا نظام ایک علیم و حکیم ہستی کا ہو سکتا ہے؟ ذرا اپنے ناک پر غور کر کے دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ اسے کیسی عمدگی کے ساتھ فٹ کیا گیا ہے اور اس کا جو مقصد ہے وہ اسے کس خوبی کے ساتھ پورا کر رہا ہے۔ آنکھوں کے درمیان میں دو سوراخوں سے ہوا داخل ہو رہی ہے۔ البتہ حکیم و علیم ذات نے ان دونوں سوراخوں کو ناک سے ڈھانک دیا ہے اور پھر ناک کے اوپر والے حصے کو ہڈی کا بنایا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہوا کا دباؤ اس ڈھکنے ( ناک) پر پڑے اور دونوں سوراخ بند ہو جائیں ، نتیجتاً سانس کی