کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 557
7۔اس تجارتی لین دین میں حق رجوع کو برقرار رکھا گیا ہو ۔ کتب حدیث میں خرید و فروخت کی تقریباً تیس(۳۰) اقسام کو انہیں وجوہ کی بنیاد پر حرام ٹھہرایا گیا ہے ۔ پھر عام طور پر خریدو فروخت کی دو قسمیں ہیں : (۱) ۔نقد (۲) ۔اُدھار نقد یہ ہے کہ چیز اور اس کا معاوضہ فورًا حوالے کر دیا جائے پھر معاوضہ کے لحاظ سے اس کی مزید دو اقسام ہیں : (۱)۔ معاوضہ نقدی کی صورت میں ہو۔ (۲)۔ معاوضہ جنس کی صورت میں ہو۔ جہاں معاوضہ جنس کی صورت میں ہو اس کی دو صورتیں ہیں : (۱)۔ حرام (۲)۔ جائز حرام یہ ہے کہ ایک ہی جنس کی خریدو فروخت میں ایک طرف سے کچھ اضافہ ہو جیسا کہ ایک تولہ سونا دے کر دو تولے سونا لینا ایک کلو کھجور کے بدلے دو کلو کھجور لینا وغیرہ۔ جائز یہ ہے کہ مختلف اجناس کی خرید وفروخت کرتے وقت کسی ایک طرف سے کچھ اضافہ کے ساتھ وصولی کرنا مثلاً ایک من گندم کے عوض دو من جو لینا ، لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ سودا نقد بنقد ہو۔ خرید وفروخت کے اُدھار ہونے کی صورت میں بھی اس کی کئی اقسام ہیں : مثلاً: (۱).....چیز اور اس کا معاوضہ دونوں ہی اُدھار ہوں ، ایسا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے ۔ فقہی اصطلاح میں اسے بیع الکالی کہتے ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (۲).....اگر دونوں میں سے ایک نقد اور دوسری اُدھار ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں : (۱لف)معاوضہ نقدی کی صورت میں پہلے ادا کر دیا جائے لیکن مبیع یعنی فروخت کر دہ جنس بعد میں حوالہ کرنا ہو اسے بیع سلم یا سلف کہا جاتا ہے اس کی شرعاً اجازت ہے بشرطیکہ : (۱)جنس کی مقدار اور اس کا بھاؤ پہلے سے طے شدہ ہو۔ (۲)جنس کی ادائیگی کا وقت بھی متعین ہو۔ (ب)مبیع یعنی فروخت کردہ چیز پہلے وصول کر لی جائے لیکن معاوضہ کی ادائیگی اُدھار ہو ، یہ بھی جائز ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمر کے آخری دور میں ایک یہودی سے آئندہ قیمت کی ادائیگی پر کچھ جو لیے تھے اسے بیع نسئیہ کہتے ہیں ، اس بیع کی دو صورتیں ہیں :(۱)فروخت کردہ چیز کا بھاؤ ایک ہو خواہ نقد یا اُدھار ، اس کے جواز میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ (۲) فروخت شدہ چیز کے نقد اُدھار کے دو بھاؤ ہوں اس کے جواز یا عدم جواز کے متعلق علماء کا اختلاف ہے ، صورت مسؤلہ میں بھی اسی کو بیان کیا گیا ہے ، اس کے متعلق ہم نے کچھ گزارشات پیش کرنا ہیں