کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 552
کے بارے وضاحت فرمائیں ؟(محمد ارشد) ج: شریعت میں کوئی نفع جائز و حلال ہے اور کوئی نفع ناجائز و حرام ہے۔ جو نفع جائز و حلال ہے وہ جائز و حلال ہے خواہ تھوڑا ہو خواہ زیادہ اور جو نفع ناجائز و حرام ہے وہ ناجائز و حرام ہے خواہ تھوڑا ہو خواہ زیادہ ۔ واللہ اعلم [نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مدینہ میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے تو لوگوں نے کہا اے اللہ کے رسول! صلی اللہ علیہ وسلم نرخ بہت بڑھنے لگے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے قیمتوں پر کنٹرول کریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ ہی نرخ مقرر کرنے والا ہے وہی مہنگا کرنے والا ہے وہی سستا کرنے والا ہے اور وہی رزق دینے والا ہے میں اس بات کا اُمید وار ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملوں کہ کوئی شخص مجھ سے خون یا مال میں ظلم کی بنا ء پر مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔[1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر زیادتی کرتا ہے نہ اسے ( دشمن کے) سپرد کرتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرے۔ اللہ تعالیٰ اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔‘‘[2]] ۴/۸/۱۴۲۱ھ س: گزارش ہے کہ اپنے کاروبار کے متعلق مسئلہ در پیش ہے۔ ہم زمینداروں کو تین چار ماہ کے اُدھار پر کھاد دیتے ہیں اور اُدھار دینے کی وجہ سے ہم مارکیٹ کی نسبت ۱۰۰ روپے فی بوری پیسے زیادہ وصول کرتے ہیں ۔ بعض اوقات کھاد لینے والوں کے پاس پیسوں کی کمی ہوتی ہے اور اس وجہ سے وہ مجبوراً مہنگی کھاد لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اگر ہم ان پیسوں کو نقد لین دین میں استعمال کریں تو زیادہ منافع کے مواقع ہیں ۔ ہم اس نیت سے اُن لوگوں کو اُدھار مہنگی کھاد دیتے ہیں ۔ اب گزارش ہے کہ یہ معاملہ قرآن و حدیث کی روشنی میں سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ تفصیلاً جواب فرمادیں ۔ (اللہ دتہ رحمانی ،۔محمد عثمان رحمانی) ج: قسطوں پر بیع کی دو صورتیں ہیں : (۱).....چیز کی جتنی قیمت نقد ہے اتنی ہی یا اس سے کم قیمت اُدھار قسطوں میں وصول کر لی جائے۔ (۲).....چیز کی جتنی قیمت نقد ہے اُدھار قسطوں میں اس سے زیادہ قیمت وصول کی جائے۔ پہلی صورت شرعاً جائز و درست ہے جبکہ دوسری صورت سود ہونے کی وجہ سے ناجائز ، [1] ابو داؤد/کتاب الاجارۃ/باب التسعیر۔ ابن ماجۃ/کتاب التجارات/باب من کرہ ان یسعر۔ ترمذی /کتاب البیوع/باب ما جاء فی التسعیر۔ [2] صحیح بخاری/کتاب المظالم/باب لا یظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ۔ صحیح مسلم/کتاب البرو والصلۃ/باب تحریم الظلم۔