کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 550
نوٹ:.....نواز چیمہ صاحب گواہوں کے سامنے آپ کی بات کی تردید کر چکے ہیں کہ یہ سود ہرگز نہیں بنتا۔ آپ خود معلوم کر لیں ۔ ہم میں سے جو غلط ہو وہ اب کسی لا علمی کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ باہمی ضد کی وجہ سے ہو گا۔ العیاذ باللّٰہ۔ ان شاء اللہ مجھے اُمید ہے کہ آپ مثبت جواب دیں گے ہو سکتا ہے میں غلط ہوں ، ایک مومن دوسرے کے لیے آئینہ کی مانند ہے ۔(حدیث)جیسے آئینہ لباس و چہرے کے نقائص بتاتا ہے ، دکھاتا ہے ، مومن دوسرے کی غلطیاں بتاتا ہے اور یہی تحقیق ہی جہاد کی طرح ہے۔ (حدیث) بسم ا للّٰه الرحمٰن الرحیم از عبدالمنان نور پوری بطرف جناب محترم صوبیدار ( ر) محمد رشید صاحب ، حفظہما اللہ الحمید المجید۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد! خیریت موجود عافیت مطلوب۔ آپ کی تمام باتوں کا جواب میری تحریرات میں موجود ہے جو تحریرات آپ کے پاس پہنچ چکی ہیں ۔ باقی آپ نہ سمجھیں تو اس میں میرا قصور؟ پھر آپ کا لکھنا ’’صرف اتنا بتا دیں کہ زمین سے الانتفاع سود ہے یا نہیں ؟ ‘‘ ان الفاظ کے نیچے خط لگا کر آپ کا لکھنا ’’ میرے خط کشیدہ الفاظ کا جواب نہ لکھا تو ….....الخ کس چیز کی غمازی کرتا ہے؟ تمام احباب و اخوان کی خدمت میں تحیہ ٔ سلام پیش فرما دیں ۔ ۲۴؍۱۱؍۱۴۲۵ھ س: کوئی آدمی جنس چاول ، گندم وغیرہ سے اس کے موسم میں خرید کر اس لیے رکھ دیتا ہے کہ سال کے آخر میں جب یہ جنسیں مہنگی ہوں گی تو بیچ ڈالوں گا ،اس کاکیا حکم ہے؟ (قاری عبدالصمد بلوچ) ج: یہ احتکار ہے اور احتکار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [((قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم مَنِ احْتَکَرَ فَھُوَ خَاطِیٌٔ وَقَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم لَا یَحْتَکِرُ اِلاَّ خَاطِیٌٔ۔))[1] ’’جو ذخیرہ اندوزی کرے وہ گناہ گار ہے ، ذخیرہ اندوزی نہ کرے گا مگر گناہ گار۔‘‘] ۲/۲/۱۴۲۴ھ س: محترم شیخ ایک مسئلہ کی وضاحت مطلوب ہے کہ اجناس کو اس غرض سے ذخیرہ اندوز کرنا کہ مارکیٹ میں ریٹ بڑھنے پر فروخت کر کے نفع حاصل کیا جائے۔ مثلاً عام حالات میں چینی ، گھی ،کھل اور دیگر اجناس خرید کر سٹور کرنا اور ریٹ بڑھنے کا انتظار کرنا۔ اس صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ ذخیرہ شدہ چیز کاریٹ کچھ بڑھنے کے بعد اچانک کم ہو جائے یعنی نفع اور نقصان کی دونوں صورتیں ممکن ہیں ۔ ۔قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلاً [1] مسلم /کتاب المساقات والمزارعت /باب تحریم الاحتکار فی الاقوات۔ ترمذی؍کتاب البیوع؍باب الاحتکار