کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 544
کرنا اس کا دودھ پینا درست ہے۔‘‘ باب کے نیچے دو حدیثیں بیان ہوئی ہیں ان میں بھی یہی بیان ہو اکہ گروی جانور پر اس کے خرچ کے بدلے سواری کی جائے اسی طرح دودھ والے جانور کا جب وہ گروی ہو تو خرچ کے بدلے اس کا دودھ پیا جائے ‘‘ تو باب اور حدیث میں جانور گروی ہونے کی بات ہے وہ سواری کا جانور ہو خواہ دودھ کا جانور ہو۔ ارض مرہونہ کی بات نہ باب میں ہے نہ حدیث میں ۔ باقی رہی نیچے مولانا داؤ صاحب راز رحمہ اللہ تعالیٰ کی تشریح تو اس میں انہوں نے مذاہب ذکر کیے ہیں ، آپ خود ہی لکھتے ہیں : ’’ہاں مقلد میں نہیں ہوں ‘‘ مولانا موصوف نے کوئی آیت یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث کہ ’’ارضِ مرہونہ سے فائدہ اُٹھایا جائے اور قرض دیے ہوئے پیسے بھی پورے لیے جائیں ‘‘ پیش نہیں فرمائی۔ مولانا موصوف لکھتے ہیں ’’جمہور فقہاء ا س حدیث سے دلیل لیتے ہیں کہ جس قرض سے کچھ فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔ اہلحدیث کہتے ہیں اوّل تو یہ حدیث ضعیف ہے ۔‘‘ یہ روایت تو واقعی ضعیف ہے تو آیا اہل حدیث یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک لاکھ قرض دے کر سوا لاکھ وصول کر ے تو سود نہیں ؟ وہ کون سے اہل حدیث ہیں ان کے نام تو ذکر فرمائیں ۔ اور معلوم ہے کہ ارض مرہونہ سے فائدہ اُٹھانے والے اور قرض دیے ہوئے پیسے پورے وصول کرنے والے لاکھ دے کر سوا لاکھ وصول کرنے والوں میں شامل ہیں ، مرہون جانور سواری یا لویری سے خرچہ کے بدلے فائدہ اُٹھانے کی نص صحیح آ گئی ہے اس لیے وہ درست ہے۔ میری کتاب احکام و مسائل اور آپ کو ارسال کردہ مکتوبات میں کوئی تضاد تعارض نہیں دونوں میں یہی بات ہے ارض مرہونہ سے فائدہ اُٹھانا سود نہ بنے تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔ جانور والی حدیثیں جیسی کتاب میں ہیں ویسی خط میں اور جیسی خط میں ویسی کتاب میں ۔ ذرا غور فرمائیں بات واضح ہو جائے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آپ لکھتے ہیں ’’ آپ کی بند والی دلیل لغو ہے‘‘ آپ کے کہنے سے تو کوئی چیز لغو نہیں ہو جائے گی ، آپ فرماتے ہیں : ’’ اکابرین اہل حق امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم الانتفاع بالرھن کو جائز ثابت کرتے ہیں ‘‘ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی تو کوئی عبارت آپ نے ابھی تک پیش ہی نہیں فرمائی اور حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ کی جو عبارات آپ نے پیش فرمائی ہیں وہ مرہون جانور سواری یا لویری سے انتفاع پر دلالت کرتی ہیں ۔ اور ان کی کوئی ایسی عبارت جو ارض مرہونہ سے فائدہ اُٹھانے اور قرض دیے ہوئے پیسے بھی پورے لینے پر دلالت کرتی ہو ابھی تک آپ نے پیش نہیں فرمائی۔ آپ لکھتے ہیں :’’آپ بتائیں کہ کس بنیاد پر حرام کرتے ہیں ‘‘ پہلے بھی لکھ چکا ہوں ، اب بھی کہ ارض مرہونہ سے فائدہ اُٹھانا سود نہ بنے تو جائز ہے ورنہ ناجائز۔ تو سود کی بنیاد پر حرام کہتا اور لکھتا ہوں اللہ