کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 543
خواہ مخواہ اسے فتوے کے بوجھ تلے نہ دبا لو۔ جو شخص قرائن ، عادات ، عرف ، دستور کو دیکھے بغیر صرف کتب فقہ کے فتووں پر فتوے دیتا ہے اس سے بڑھ کر گمراہ اور گمراہ کرنے والا کوئی نہیں ۔ اس دین الٰہی کو جو نقصان پہنچے گا وہ یقینا اس نقصان سے سینکڑوں حصہ زیادہ ہے جو ایک جاہل طبیب کے ہاتھوں مختلف مزاج اور مختلف ملک کے رہنے والوں کو اس صور ت میں پہنچ سکتا ہے کہ وہ ایک ہی کتابی نسخہ سب کو دیتا ہے یہ جاہل طبیب لوگوں کی جانوں کا دشمن ہے اور یہ جاہل فقیہ مسلمانوں کے ایمان کا دشمن ہے۔ سلف صالحین کے زمانے میں یہ غلیظ قسمیں نہ تھیں ۔ یہ بدعتی قسمیں تو ان جاہلوں نے نکال رکھی ہیں اسی لیے اہل علم کی ایک جماعت کا قول ہے کہ ان واہی قسموں سے کوئی چیز لازم نہیں ہوتی۔ علماء کرام کی ایک جماعت کا یہی فتوی ہے اور متاخرین میں سے تا ج الدین ابو عبداللہ ارموی مصنف کتاب الحاصل کا فتوی بھی یہی ہے۔ بسم ا للّٰه الرحمٰن الرحیم از عبدالمنان نور پوری بطرف جناب محترم صوبیدار ( ر) محمد رشید صاحب ، حفظہما اللہ الحمید المجید۔ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ اما بعد! خیریت موجود عافیت مطلوب۔ آپ کا سورۂ مائدہ کی آیت ۸۷، سورۂ نحل کی آیت : ۱۱۹ اور سورۃ الحجرات کی آیت نمبر ۱ بزعم شما کو اس موقع پر چسپاں کرنا بے محل ہے ، اسی طرح مشکاۃ والی احادیث اس مقام پر پیش کرنا مفید نہیں ۔ جلال الدین سیوطی کی بات بھی نفع بخش نہیں کیونکہ ربا و سود کو تو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح ملا علی قاری کی بات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ سود و ربا کی حرمت پر نص موجود ہے۔ اسی طرح ابن عابدین کی بات آپ کے لیے تب مفید ہو سکتی ہے جبکہ آپ نے پہلے ثابت کر دیا ہو کہ ارض مرہونہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں فائدہ اُٹھایا جاتا تھا اور راہن ارض مرتہن کو پیسے بھی پورے ادا کرتا تھا اور یہ چیز ابھی تک آپ نے ثابت نہیں فرمائی۔ ابن قیم رحمہ اللہ تعالیٰ کی جو عبارات آپ نے پیش فرمائی ہیں ان کا سیاق و سباق اسی چیز پر دلالت کرتا ہے کہ حافظ صاحب ان عبارات میں سواری اور لویری کے مرہون ہونے کی صورت میں ان سے فائدہ اُٹھانے سے انکار کرنے والوں کا رد فرما رہے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت کر رہے ہیں ، حافظ ابن قیم کی ان عبارات میں ارض مرہونہ سے فائدہ اُٹھانے کے جواز والی کوئی بات نہیں ۔ باقی حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ کی کوئی عبارت آپ نے پیش نہیں فرمائی۔ صحیح بخاری مترجم کا آپ نے ایک صفحہ فوٹو کاپی کرا کے بھیجا ہے تو اس میں باب ہے ’’ گروی جانور پر سواری