کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 541
نے کتنا مشکل اور سخت کر دیا ہے؟ کس قدر حرج اور مشقت انسانوں پر ڈال دی ہے۔ شارع علیہ السلام کے قربان جائیں اس کا فیصلہ کتنا پیارا، کس قدر سادہ، کتنا صاف اور عقل کے مطابق ہے جس میں نہ اس کو حرج نہ اس پر مشقت۔ صاف لفظوں میں فرمایا کہ دودھ پیو اور سواری لو اور جانور کے اخراجات برداشت کرو۔ اگر ان قیاسی حضرات کے ذہن بگڑے ہوئے نہ ہوتے اگر ان کی عقل میں گھن لگا ہوا نہ ہوتا تو صحیح قیاس بھی یہی تھا۔ جو حدیث میں ہے اگر بالفرض یہ حدیث نہ بھی ہوتی تو بھی ہر عاقل یہی حکم لگاتا جس میں سہولت اور عدل ہے دیکھئے اس میں دو اصل ہیں جن پر حکم نکلا ہے ، اصل اوّل جانور جس کے پاس رہن ہے وہ جو خرچ کرتا ہے اور جو اسے چارہ دیتا ہے وہ دراصل جانور والے کے ذمے اُدھار ہے اس کی ادائیگی اسی پر ہے یہ ظاہر ہے کہ ہر وقت دانے چارے پر گواہ مقرر کرنا حاکم کی اجازت لینا دشوار ہی نہیں بلکہ تقریباً محال ہے پس شارع صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جائز کر دیا کہ یہ اپنا قرض اس جانور کی سواری سے اور اس کے دودھ سے وصول کر لے اسی میں دونوں کی مصلحت اور آسانی ہے ، اگر یہ سواری چھوڑ دے دودھ نہ نکالے تو جانور بگڑ جائے گا۔ دودھ نکال کر پھینک دے تو ’’ تو کونہ مو کو چولے میں جھونکو ‘‘ ہو گا۔ نہ اس کے مکھ پڑے گا نہ اس کے ہاتھ لگے گا۔ دونوں کا نقصان ہو گا اور بے زبان جانور الگ تباہ ہو گا۔ کہاں ہر وقت حاکم کی اجازت لیتا رہے گا۔ کون سا حاکم ان بے جان باتوں کے لیے اجلاس میں بیٹھا رہے گا پھر آپ اسے بھی تو دیکھئے کہ عموما بکریاں دیہاتوں اور گاؤں میں گروی رکھی جاتی ہیں وہاں کون سے حاکم اور عدالتیں ہیں اس لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان معاملات کو خود طے کر دیا اور حکام اور عدالتوں کی ضرورت ہی نہ رہنے دی خواہ وہ ہوں یا نہ ہوں ؟ اصل دوم دومعاوض ہیں جن میں سے ایک حاضر نہیں پس اس کی عدم موجودگی میں معاوضہ لے لینا اس لیے جائز قرار دیا گیا کہ ضرورت ہے اور مصلحت ہے بیچنے والے کی رضا مندی بغیر حق شفعہ سے لے لینے سے تو یہ زیادہ اولیٰ ہے ، اس معاوضہ سے نہ لینے میں جو حرج اور نقصان ہے وہ اس سے بہت بڑا اور بہت سوا ہے جو حق شفعہ کے بدل لینے کے چھوڑنے میں ہے جس کے پاس جانور رہن ہے وہ اس کی حفاظت کر رہا ہے تاکہ سند اور چیز بدلے کی محفوظ رہے جس سے اس کی رقم واپس ہو یہ اسی وقت ممکن ہے جب جانور باقی رہے اور جانور کی بقاء اس پر موقوف ہے کہ اس کا دانہ جاری رہے اور یہ اسکی گرہ کے روپے پیسے سے ہی آئے گا اس لیے جس طرح شرعاً یہ جائز ہے معلوم ہوا کہ عرفاً اور عادۃً بھی اسے جائز ہی ہونا چاہیے ورنہ دنیا کے دھندے خراب ہو جائیں گے۔ عرف و عادت بھی قائم مقام الفاظ کے ہے: سو سے زائد وہ مقامات ہیں جہاں یہ بات برابر پائی جاتی ہے مثلاً: (۱)جس جگہ جو سکہ رائج ہے بول چال