کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 540
مرتہن شے مرہونہ سے نفع اُٹھا سکتا ہے۔ جب اس کی درستی اور اصلاح اور خبر گیری کرتا رہے۔ گو مالک نے اس کو اجازت نہ دی ہو اور جمہور فقہاء نے اس کے خلاف کہا ہے کہ مرتہن کو شے مرہونہ سے کوئی فائدہ اُٹھانا درست نہیں ۔ اہلحدیث کے مذہب پر مرتہن کو مکان مرہونہ بعوض اس کی حفاظت اور صفائی وغیرہ کے رہنا ، اسی طرح غلام لونڈی سے بعوض ان کے نان اور پارچہ کے خدمت لینا درست ہو گا۔ جمہور فقہاء ا س حدیث سے دلیل لیتے ہیں کہ جس قرض سے کچھ فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے ۔ اہلحدیث کہتے ہیں اوّل تو یہ حدیث ضعیف ہے ۔ اعلام الموقعین ۷۲ ویں مثال ، ستاونویں حدیث: جس کے پاس کوئی جانور رہن ہو اور اس کا چارہ اسی کے ذمے ہو اسے جائز ہے کہ اس پر سواری لے اور اس کے تھن کا دودھ پیے۔ صحیح بخاری میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : رہن کے خرچ کی بناء پر سواری کی جائے گی جبکہ وہ رہن میں ہے اور تھن کا دودھ بھی ، اسی خرچ کی بناء پر پیا جائے گا جبکہ وہ رہن میں ہے سواری کرنے والے اور پینے والے پر خرچ ہے ۔ یہ حدیث بخاری شریف کی ہے صحیح ہے ، صاف ہے ، صریح ہے ، سراسر عدل و انصاف والا یہ حکم ہے ، اگر اسے ٹال دیا جائے تو علاوہ اس کے کہ ایک حکم شرع ٹلے گا۔ ایک قانون الٰہی بدلے گا ،ایک سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ترک ہو گی ، عدل و انصاف کا بھی خون ہو گا اور رہن رکھنے والا رہن رکھوانے والا دونوں مصیبت میں آجائیں گے۔ مثلاً کسی نے اپنا جانور دس بیس روپے بدل کسی کے پاس گروی رکھا اب یہ روپیہ لے کر کہیں چل دیا جس کے پاس جانور رہن رکھا ہے اسے تم وہ حکم اور حق نہیں دیتے جو حدیث نے دلوایا ہے تو اب بتلاؤ اس کے لیے کس قدر مشکلات ہیں ؟ایک طرف رقم رُکی دوسری طرف جانور کھونٹے سے بندھا ہوا بھوکا پیاسا کھڑا ہے اس کی سنبھال، اس کی خوراک اس پر نہ صرف مشکل ہے بلکہ سوہانِ روح بنی ہوئی ہے ، دوسری مصیبت میں آ پڑا ہے۔ نہ کھلائے تو بے زبان جانور کی آہ نکلے ، کھلائے تو کس سے لینے جائے؟ وہاں تو اصل رقم کے ابھی تک لالے پڑے ہوئے ہیں ، اب یہ کس حاکم کے پاس جائے کہاں سے اس کا ثبوت لائے کہ یہ جانور فلاں کا ہے اتنی رقم وہ مجھ سے لے گیا یہ میرے پاس رہن رکھ گیا اب وہ ملتا نہیں ، اللہ جانے کہاں چلا گیا ہے پھر یہ حساب کسی منشی سے جڑوائے کہ آج اس نے اتنا کھایا اور دودھ اتنا دیا۔ جناب حاکم صاحب توجہ فرمائیں اور مجھے حکم دیں ۔ آہ! کن مشکلات میں اُمت کو ان قیاسی حضرات نے ڈال دیا ہے اللہ کے آسان اور سہل دین کو ان لوگوں