کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 539
۳ ۔بَابٌ الرَّھْنُ مَرکُوْبٌ و مَحْلُوْبٌ باب گروی جانور پر سواری کرنا اور اس کا دودھ پینا درست ہے (( وَقَالَ مُغِیْرَۃُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ: تُرْکَبُ الضَّالَّۃُ بِقَدْرٍ عَلَفِھَا ، وَتُحْلَبُ بِقَدْرِ عَلَفِھَا ، وَالرَّھْنُ مِثْلُہٗ)) ’’اور مغیرہ نے بیان کیا اور ان سے ابراہیم نخعی نے کہ گم ہونے والے جانور پر( اگر وہ کسی کو مل جائے تو) اس پر چارہ دینے کے بدلے سواری کی جائے( اگر وہ سواری کا جانور ہے) اور ( چارے کے مطابق) اس کا دودھ بھی دوہا جائے ( اگر وہ دودھ دینے کے قابل ہے)ایسے ہی گروی جانور پر بھی۔‘‘ (( حَدَّثَنَا أَبُوْ نُعِیْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَکَرِیَّا عَنْ عَامِرٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ عَنِ النَّبِیِّ صلی ا للّٰه علیہ وسلم أَنَّہُ کَانَ یَقُوْلُ: ’’الرَّھْنُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہِ ، وَیُشْرَبُ لَبَنُ الدَّر إِذَا کَانَ مَرْھُونًا) [طرفہ فی:۲۵۱۲] ’’ ہم سے ابو نعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زکریا بن ابی زائدہ نے بیان کیا ، ان سے عامر شعبی نے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گروی جانور پر اس کا خرچ نکالنے کے لیے سواری کی جائے ، دودھ والا جانور گروی ہو تو اس کا دودھ پیا جائے۔‘‘ (( حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ ا للّٰه قَالَ أَخْبَرَنَا زَکَرِیَّا عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ا للّٰه صلی ا للّٰه علیہ وسلم (الرَّھْنُ یُرْکَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُونًا ، وَلَبَنُ الدَّرِّ یُشْرَبُ بِنَفَقَتِہٖ إِذَا کَانَ مَرْھُونًا ، وَعَلَی الَّذِیْ یَرْکَبُ وَیَشْرَبُ النَّفَقَۃُ)) [راجع:۲۵۱۱] ’’ ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہیں زکریا نے خبر دی ، انہیں شعبی نے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گروی جانور پر اس کے خرچ کے بدل سواری کی جائے۔ اسی طرح دودھ والے جانور کا جب وہ گروی ہو تو خرچ کے بدل اس کا دودھ پیا جائے اور جو کوئی سواری کرے یا دودھ پیے وہی اس کا خرچ اُٹھائے۔‘‘ تشریح:…شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور امام ابن قیم رحمہ اللہ اور اصحاب حدیث کا مذہب یہی ہے کہ