کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 535
آپ لکھتے ہیں ’’ربا کی تعریف:.....قرض پر اضافہ لیا جاتا تھا اور میعاد میں اضافہ سے سود میں بھی اضافہ ہوتا تھا‘‘ ’’ربا میں دو شرطیں لازم ہیں : قرض پر اضافہ بطورِ شرط لیا جائے ، (۲) مہلت کے ساتھ قرض میں اضافہ ہوتا رہے‘‘ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کے ساتھ سونے کی ، چاندی کے ساتھ چاندی کی متفاضلانہ نقد بنقد بیع اور ردی کھجور کے دو صاعوں کی برنی کھجور کے ایک صاع کے ساتھ بیع کو ربا سود قرار دیا ہے ۔ جبکہ جناب والی تعریفوں کے مطابق یہ تینوں صورتیں ربا سود نہیں تو جناب بتائیے آپ کی تعریفیں درست ہیں ؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان تینوں صورتوں کو ربا سود قرار دینا درست ہے؟ شرح صدر کا کیا تقاضا ہے؟ جناب کاہی پیش کردہ شعر ہے نکل جاتی ہے جس کے منہ سے سچی بات مستی میں فقیہ مصلحت بین سے وہ رند بادہ خوار اچھا اس فقیر الی اللہ الغنی نے پوری پوری کوشش کی ہے کہ کوئی ایک بھی ایسا کلمہ استعمال نہ کیا جائے جو جناب کی طبیعت پر گراں گزرے تاہم انسان ہوں کوئی بات ایسی ہو گئی ہو تو معذرت خواہ ہوں امید ہے آپ محسوس نہیں فرمائیں گے۔ ان شاء اللہ تبارک و تعالیٰ جل و علا۔ ۲۴/۱۱/۱۴۲۳ھ بسم ا للّٰه الرحمٰن الرحیم محترم و مکرم حافظ عبدالمنان نور پوری صاحب السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ۔ حافظ صاحب ! آپ کو یاد ہو گا کہ انتفاع بالرھن کے مسئلے پر ہمارے درمیان نصف درج خطوط کا تبادلہ ہوا لیکن میری تسکین (Setisfection) نہیں ہوئی ۔ تھوڑی سی نصیحت دینے کی گستاخی کر رہا ہوں ۔ اکثر بلکہ سب اہل حدیث سوائے آپ کے ،جواب دینے سے کترا گئے ہیں ( آپ سے ایسی ……) ا…وفاقی شرعی عدالت سے احکام و مسائل کے صفحہ ۳۶۳ پر سوال و جواب کی وضاحت کرالیں وہاں ہم دونوں اپنے اپنے دلائل دیں گے کہ زمین سے انتفاع سود ہے یا نہیں ؟ ب…اپنی عدالت بنا لیں یعنی ایک شخص آپ نامزد کریں ایک میں کرتا ہوں اور ایک غیر جانبدار کوئی وکیل یا جج ہو۔ اپنے اپنے دلائل زبانی یا تحریری اُن کے سامنے رکھیں اور فیصلہ کرالیں ۔ میری طرف مولانا محمد حسین شیخو پوری اور جناب محمد نواز چیمہ صاحب میں سے کوئی ایک ، دونوں میں سے جو بات منظور ہو لکھیں تاکہ اگلی کارروائی شروع کردیں ۔