کتاب: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام و مسائل - صفحہ 534
[’’ اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے اور تم ان کی پیروی کرتے اور مجھے چھوڑ جاتے تو تم سیدھے راستے سے گمراہ ہو جاتے۔‘‘] آپ کے دوسرے مکتوب کا جواب ختم ہوا۔ ۲۴/۱۱/۱۴۲۳ھ س: احکام و مسائل ص:۳۶۳ میں زمین مذکورہ حدیثوں میں شامل کی ہے جن سے رہن شدہ سواری اور لویری سے بعوض خرچہ کے نفع جائز ہے ۔ خط میں حدیثوں کو بند کیوں کیا جانور پر؟ علامہ سیوطی لکھتے ہیں کہ غیر منصوص مسائل میں عرف و رواج معتبر ہے بشرطیکہ وہ نص کے خلاف نہ ہو۔ ربا کی تعریف: قرض پر اضافہ لیا جاتا تھا اور میعاد میں اضافہ سے سود میں بھی اضافہ ہوتا تھا۔(مؤطا امام مالک رحمہ ا للّٰه مع تنویر الحوالک جلد۲،ص:۸۰) ربا میں دو شرطیں لازم ہیں : قرض پر اضافہ بطورِ شرط لیا جائے ، (۲) مہلت کے ساتھ قرض میں اضافہ ہوتا رہے ۔(شرح المعانی الاثار از امام طحاوی جلد۲،ص:۲۳۲۔ احکام القرآن) (صوبیدار محمد رشید ، قصور) ج: ۱۔ آپ فرماتے ہیں : ’’احکام و مسائل ص:۳۶۳ میں زمین مذکورہ حدیثوں میں شامل کی ہے جن سے رہن شدہ سواری اور لویری سے بعوض خرچہ کے نفع جائز ہے خط میں حدیثوں کو بند کیوں کیا جانور پر؟ تو محترم مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس فقیر الی اللہ الغنی نے احکام و مسائل کے ص:۳۶۳ پر کسی اور صفحہ پر اور اپنی کسی کتا ب کے کسی صفحہ پر ارض مرہونہ کو مرہون جانور سے بعوض نفقہ فائدہ اُٹھانے والی حدیث میں شامل نہیں کیا۔ دیکھئے جناب نے خود احکام و مسائل کی عبارت نقل فرمائی ہے کہ ’’سواری اور لویری پر خرچہ کے عوض نفع تو نص میں جائز ہے اس کے علاوہ اشیاء مرہونہ سے فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے زمین بھی ان میں شامل ہے بشرطیکہ وہ سود نہ ہو۔‘‘ آپ کی اس نقل کردہ عبارت میں بھی ارض مرہونہ کو مرہون جانور والی حدیث میں شامل نہیں کیا گیا بلکہ ’’ اس کے علاوہ اشیاء.....الخ‘‘ کہہ کر ارض مرہونہ کو مرہون جانور والی روایت سے خارج کیا گیا ہے اور ربا و سود کو حرام قرار دینے والی نصوص ، آیات و احادیث کے پیش نظر ’’ وہ سود نہ ہو‘‘ والی شرط لگائی گئی ہے۔ لہٰذا آپ کا مکرر لکھنا ’’احکام و مسائل ص:۳۶۳ میں زمین کو مذکورہ حدیثوں میں شامل کیا ہے…الخ‘‘ سراسر کج بحثی ہے شرح صدر سے شرع سمجھنے والی کوئی بات نہیں ۔